உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: تم یہاں کیاکررہےہو؟ بےخوف یوکرائنی خاتون کا روسی فوجیوں سےمقابلہ! ویڈیووائرل

    Youtube Video

    روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئی ہیں کیونکہ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے مزید مدد کی درخواست کی ہے اور یہ کہ پابندیاں کافی نہیں تھیں۔ یوکرین کے اعلان کے مطابق روسی حملے میں 137 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    • Share this:
      پوری دنیا میں روسی سفارت خانوں اور عوامی مقامات پر یوکرینیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھا گیا ہے۔ اسی دوران روسی افواج یوکرین کی سرحدوں میں داخل ہوئے اور سڑکوں پر قبضہ کر لیا۔ کیف کے رہائشیوں کو کہا گیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے سڑکوں سے دور رہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک یوکرائنی خاتون بھاری ہتھیاروں سے لیس روسی فوجیوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس خاتون نے بےباک انداز میں اس فوجی سے کہا کہ ’’تم کون ہو؟ اور یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘

      وائرل ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کریمیا سے صرف 18 میل دور ہینیچسک (Henichesk) کے بندرگاہی شہر میں فوجی کو جواب دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ ہماری یہاں مشقیں چل رہی ہیں۔ براہ کرم اس طرف جائیں۔ جیسے ہی خاتون کو معلوم ہوا کہ وہ روسی فوجی ہیں۔ اس پر خاتون نے کہا کہ ’تو تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘ (So what the f*** are you doing here)

      ویڈیو میں فوجیوں کے پاس بڑی مشین گن اور ایک ہینڈ گن ہے۔ وہ عورت سے کہتے ہیں کہ ہماری بحث سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم عورت بے خوف رہی اور کہنے لگی کہ ’’تم قابض ہو، تم فاشسٹ ہو! تم ان تمام بندوقوں کے ساتھ ہماری سرزمین پر کیا کر رہے ہو؟ ان بیجوں کو لے لو اور اپنی جیبوں میں رکھو، جب تم سب یہاں لیٹ جاؤ گے تو کم از کم سورج مکھی تو اگے گی۔


      راہگیروں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے اور خاتون کی خوب تعریف کی جا رہی ہے۔ ٹویٹر پر ایک صارف نے کہا کہ ’’کتنی بہادر عورت ہے، اس طرح ظلم کے خلاف کھڑی ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا، ’انہیں اسے فوجیوں سے بات کرنے کے لیے کہنا چاہیے، وہ انہیں ہماری سرزمین کے دفاع کے لیے تیار رکھیں گی۔

      ایک اور صارف نے خاتون کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’بہادری حیرت انگیز ہے! شکریہ! ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں!‘‘

      روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئی ہیں کیونکہ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے مزید مدد کی درخواست کی ہے اور یہ کہ پابندیاں کافی نہیں تھیں۔ یوکرین کے اعلان کے مطابق روسی حملے میں 137 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: