ایف اے ٹی ایف کے ڈارک گرے لسٹ میں آنے سے کنگال پاکستان کا ہوگا کتنا برا حال ، یہاں جانیں

پاکستان اگر ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے تو اس کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

Oct 15, 2019 06:34 PM IST | Updated on: Oct 15, 2019 06:34 PM IST
ایف اے ٹی ایف کے ڈارک گرے لسٹ میں آنے سے کنگال پاکستان کا ہوگا کتنا برا حال ، یہاں جانیں

پاکستان اگر ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے تو اس کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

پاکستان اگر ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے میں ناکام ثابت ہوتا ہے تو اس کو سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اقتصادی محاذ پر پاکستان کو کرارا جھٹکا لگا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے معاملات کو روکنے والے ادارہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی جائزہ میٹنگ میں پاکستان کو سخت وارننگ دی گئی ہے ۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ڈارک گرے لسٹ میں جاسکتا ہے ۔ وہ پہلے سے ہی گرے لسٹ میں ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی ڈارک گرے لسٹ میں جانے کا مطلب ہے کہ اگر پاکستان ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کو نہیں روکتا ہے تو وہ بلیک لسٹ میں جاسکتا ہے ۔

کیسے کام کرتا ہے ایف اے ٹی ایف ؟

ایف اے ٹی ایف ایک آزاد انٹر گورنمنٹ باڈی ہے ۔ اس کا کام گلوبل فائنانشیل سسٹم کی پالیسیوں کی حفاظت کرنا اور اس کو فروغ دینا ہے تاکہ فائنانشیل سسٹم کا استعمال دہشت گردی اور غیر سماجی عناصر نہ کرسکیں ۔ ایف اے ٹی ایف گلوبل فائنانشیل سسٹم کو صحیح رکھنے کیلئے پالیسیاں بناسکتا ہے ، لیکن وہ کسی ملک کو اپنی ریٹنگ بہتر بنانے کیلئے مشورہ نہیں دے سکتا ۔ ریٹنگ بہتر رکھنے کی سمت میں کام ممالک کو خود ہی کرنا ہے ۔

گرے لسٹ میں کون سے ممالک ڈالے جاتے ہیں ؟

Loading...

گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے ، جو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ کیلئے محفوظ جنت تو نہیں مانے جاتے ، لیکن وہاں ایسی سرگرمیوں کے ہونے کی جانکاریاں ملتی رہتی ہیں ۔ گرے لسٹ میں ڈالے گئے ممالک کے بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے ۔ ایک طرح سے انہیں ایک وارننگ دی جاتی ہے تاکہ وہ ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے معاملات پر لگام لگاسکیں ۔ یہ فٹ بال میچ میں کھلاڑیوں کو پیلا کارڈ دکھائے جانے جیسا ہی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ گرے لسٹ میں ڈالے گئے ممالک کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملات کو روکنا ہوگا ۔

ڈارگ گرے لسٹ کا مطلب ؟

ڈارک گرے لسٹ ، گرے لسٹ کے بعد کا خطرناک مرحلہ ہے ۔ یہ گرے لسٹ کے ممالک کو دی گئی ایک اور وارننگ ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈارک گرے لسٹ میں ڈالے گئے ممالک اپنے یہاں ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور اس کو روکنے میں تعاون نہیں کررہے ہیں ۔ ایسے ممالک کے بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔

ڈارک گرے لسٹ میں جانے پر پاکستان کے ساتھ کیا ہوگا ؟

پاکستان کو پہلی مرتبہ 2012 میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر 2015 تک یہ اسی لسٹ میں رہا ۔ 29 جون 2018 کو پاکستان کو دوسری مرتبہ گرے لسٹ میں ڈالا گیا ۔ اس کی کارروائی فروری 2018 میں شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان گرے لسٹ میں ہی ہے ۔

اب اگر پاکستان کو ڈارک گرے لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے ، جس کا بہت زیادہ امکان ہے ، تو اس کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ دنیا کے ممالک سے اس کو قرض ملنا مشکل ہوجائے گا ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بین الاقوامی ادارے اس کو قرض دینا بند کردیں گے ۔ اب پاکستان کی عمران خان حکومت کو ٹیرر فنڈنگ اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات سے نمٹنے کیلئے ایماندارانہ کوشش کرنی ہوگی ۔ اگر پاکستان ایسا نہیں کرتا ہے تو اس کو برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

Loading...