உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron نے Long Covid کو لے کر بڑھائی تشویش، وجہ اور علاج کی تلاش میں ہیں سائنسداں

    سائنسدانوں نے لانگ کووڈ کے علاج کی تلاش شروع کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)

    سائنسدانوں نے لانگ کووڈ کے علاج کی تلاش شروع کر دی ہے۔ (فائل فوٹو)

    اپنی تحقیق میں، لاس اینجلس کے سیڈرز-سینائی میڈیکل سینٹر سے جسٹینا فرٹ-بوبر اور سوزین چینگ نے پایا کہ COVID-19 کا سامنا کرنے والے کچھ لوگوں کے صحتیاب ہونے کے بعد ان میں چھ ماہ تک اس طرح کی بہت سی اینٹی باڈیز کی اعلی سطح موجود رہتی ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن: کوویڈ-19 کی چپیٹ میں آنے کے تقریباً ایک سال بعد بھی ریبیکا ہوگان یادداشت اور دھیان میں کمی، درد اور تھکان کے مسائل سے نبردآزما ہیں۔ اس سے وہ نرس کی نوکری پر لوٹنے اور گھریلو ذمہ داریاں سنبھالنے میں ناکام ہوگئی ہیں۔ ’لانگ کوویڈ‘ (Long Covid) نے انہیں ایک ماں اور بیوی کے طور پر اپنی زمہ داریوں پر عمل کرنے میں رکاوٹ پیدا کردی ہیے۔

      نیویارک کے رہائشی لیتھم کا کہنا ہے، ’کیا یہ مستقل ہے؟ کیا یہ ’نیا معمول‘ ہے؟ میں اپنی پرانی زندگی واپس چاہتی ہوں۔‘ لیتھم کے شوہر اور تین بچے بھی ’لانگ کووڈ‘ سے متعلق علامات سے لڑ رہے ہیں۔

      کچھ اندازوں کے مطابق، ایک تہائی سے زیادہ لوگ جو کورونا وائرس کے انفیکشن کو شکست دے چکے ہیں اُن میں اس طرح کے مستقل مسائل پیدا ہوں گے۔ اب جبکہ Omicron، SARS-CoV-2 وائرس کی ایک نئی شکل ہے، دنیا بھر میں تیزی سے یہ پھیل رہا ہے، سائنسدان ’لانگ کووڈ‘ کے پیچھے کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ متعلقہ کیسیز میں ممکنہ اضافے سے پہلے اس کا علاج کیا جا سکے اور اسے تلاش کیا جائے۔

      کیا یہ ’آٹوامین ڈس آرڈر‘ ہوسکتا ہے، جس میں اینٹی باڈی سسٹم غلطی سے جسم پر ہی حملہ کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ اس بات کو سمجھنے میں مدد کرسکتا ہے کہ ’لانگ کوویڈ‘ خواتین کو غیر معمولی طور سے کیوں متاثر کرتا ہے، جبکہ مردوں کے مقابلے ’آٹوامیون ڈس آرڈر‘ کا شکار ہونے کا امکان زیادہ رہتا ہے۔

      کیا خون کے لوتھڑے یاداشت میں کمی اور ایڑیوں کا سفید ہونا جیسی علامات کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟ یہ سچ ہو سکتا ہے، کیونکہ کووڈ-19 میں جسم میں خون کے ناہموار جمنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ان مفروضوں پر جاری مطالعات کے درمیان، تازہ اشارے مل رہے ہیں کہ ویکسینیشن ’لانگ کووڈ‘ کی نشوونما کے امکانات کو کم کر سکتی ہے۔

      کیا پراسرار علامات جو عام طور پر انفیکشن کے کئی ہفتوں بعد پیدا ہوتی ہیں اومیکرون فارم سے متاثرہ مریضوں میں ظاہر ہوں گی یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ’لانگ کوویڈ‘ کی لہر ہوسکتی ہے اور ڈاکٹروں کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

      نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ امریکی پارلیمنٹ سے ایک بلین ڈالر کی مدد سے ’لانگ کوویڈ‘پر بہت سی تحقیقوں کو فنڈ دے رہا ہے۔ ’لانگ کوویڈ‘ کے علاج اور مطالعہ کے لیے وقف کلینک بھی دنیا بھر میں بنائے جا رہے ہیں۔ یہ کلینک اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن جیسے معروف اداروں سے وابستہ ہیں۔

      ’لانگ کوویڈ‘ کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کو لے کر کچھ اہم مفروضوں پر تجزیہ تیز کیا جارہا ہے

      ایک مفروضے کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وائرس کے کچھ حصے ابتدائی انفیکشن کے بعد بھی جسم میں موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مدافعتی نظام غیر معمولی طور پر فعال ہو جاتا ہے اور ’طویل کووِڈ‘ کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ دوسرا مفروضہ کہتا ہے کہ کوویڈ 19 جسم میں موجود کچھ غیر فعال وائرس کو دوبارہ متحرک کرتا ہے، جیسا کہ ایپسٹین بار وائرس مونو نیوکلیوسس کے لیے ذمہ دار ہے۔

      ’جرنل سیل‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خون میں ایپسٹین بار وائرس کی موجودگی ’لانگ کووڈ‘کی چار ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس، کورونا وائرس کی آر این اے کی سطح اور خون میں بعض اینٹی باڈیز کی موجودگی تین دیگر وجوہات ہیں۔ تاہم، اس کی تصدیق کے لیے مزید مطالعہ کی ضرورت ہے۔ تیسرا مفروضہ کہتا ہے کہ کورونا وائرس کے شدید انفیکشن کے بعد ’آٹو امیون ردعمل‘ شروع ہوتا ہے۔

      درحقیقت عام قوت مدافعت میں وائرل انفیکشن ان اینٹی باڈیز کو متحرک کرتا ہے، جو جسم پر حملہ کرنے والے وائرس کے پروٹین کے خلاف لڑتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات اینٹی باڈیز انفیکشن کے بعد بھی متحرک رہتی ہیں اور صحت مند خلیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ یہ حالت خود سے قوت مدافعت کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جیسے لیوپس اور ایک سے زیادہ اسکلیروسیس۔

      اپنی تحقیق میں، لاس اینجلس کے سیڈرز-سینائی میڈیکل سینٹر سے جسٹینا فرٹ-بوبر اور سوزین چینگ نے پایا کہ COVID-19 کا سامنا کرنے والے کچھ لوگوں کے صحتیاب ہونے کے بعد ان میں چھ ماہ تک اس طرح کی بہت سی اینٹی باڈیز کی اعلی سطح موجود رہتی ہے۔

      یہ بھی ممکن ہے کہ خون کے سکڑے لوتھڑے ’لانگ کوویڈ‘ کی وجہ بنتے ہیں؟ کئی کوویڈ مریضوں میں خون کے غیر معمولی لوتھڑے جمانے والے مالیکیول پائے گئے ہیں، جو ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کی وجہ بننے کے ساتھ ہی ساتھ ہاتھ اور پیر کی نسوں میں خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: