உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منکی پاکس وائرس لوگوں کی صحت کیلئے سنگین خطرہ؟ WHO نے بلائی اہم میٹنگ

    منکی پاکس وائرس لوگوں کی صحت کیلئے سنگین خطرہ؟ WHO نے بلائی اہم میٹنگ ۔ علامتی تصویر ۔

    منکی پاکس وائرس لوگوں کی صحت کیلئے سنگین خطرہ؟ WHO نے بلائی اہم میٹنگ ۔ علامتی تصویر ۔

    WHO on Monkeypox Virus: اس معاملہ پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایمرجنسی کمیٹی 23 جون کو میٹنگ کرے گی۔ ڈبلیو ایچ او ، ماہرین صحت کے ساتھ مل کر منکی پاکس وائرس کا نام بدلنے اور اس سے ہونے والی بیماری پر بھی کام کررہا ہے ۔

    • Share this:
      جنیوا: دنیا کے کچھ ممالک میں منکی پاکس وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اگلے ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ اس بیماری کی بین الاقوامی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف کنسرن کے طور پر درجہ بندی کی جانی چاہئے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنام نے کہا کہ منکی پاکس کا پھیلنا غیر معمولی اور تشویشناک ہے۔ اس وجہ سے میں نے اگلے ہفتہ بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت ہنگامی کمیٹی کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا یہ وبا بین الاقوامی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی سے وابستہ تشویشات کے قابل ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: مونکی پوکس سے صحت عامہ کیلئے خطرہ کیوں؟ ڈبلیو ایچ او نے کی اہم وضاحت


      اس معاملہ پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایمرجنسی کمیٹی 23 جون کو میٹنگ کرے گی۔ ڈبلیو ایچ او ، ماہرین صحت کے ساتھ مل کر منکی پاکس وائرس کا نام بدلنے اور اس سے ہونے والی بیماری پر بھی کام کررہا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا کے 39 مالک میں سے 32 ماملک اس وائرس کی زد میں ہیں ۔ دنیا بھر میں اب تک منکی پاکس انفیکشن کے 1600 معاملات سامنے آئے ہیں ۔ اس کے علاوہ 1500 معاملات مشتبہ ہیں ۔

      دنیا بھر میں پھیل رہے اس وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ٹیسٹنگ، سرویلانس بڑھانے اور متاثر مریضوں کو آئیسولیشن میں رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: مونکی پوکس کی وبا 1,000 کیسز میں سرفہرست، ڈبلیو ایچ اونےکہا 'حقیقی خطرہ‘


      حالانکہ ڈبلیو ایچ او نے اب تک منکی پاکس کی روک تھام کیلئے ویکسینیشن کی سفارش نہیں کی ہے ۔ وہیں اسمال پاکس کی ویکسین کو لے کر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا کہ منکی پاکس کے خلاف اس کے ٹیکے سے کچھ تحفظ ملنے کی امید ہے، لیکن اس کو لے کر محدود ڈیٹا ہے۔ ساتھ ہی ویکسین کی سپلائی بھی محدود ہے۔

      ساتھ ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں کہیں بھی ویکسین کی ضرورت ہو، اسے مساوی طور پر دستیاب کرایا جانا چاہئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: