உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کون ہے PAK کی لیڈی القاعدہ؟ جس کو چھڑانے کے لئے US میں یہودیوں کو بنایا گیا یرغمال

    عافیہ صدیقی۔ (تصویر AFP)

    عافیہ صدیقی۔ (تصویر AFP)

    عافیہ صدیقی میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی ہے۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اُس کا نام 2003 میں ہی آچکا تھا جب ایک دہشت گرد خالد شیخ محمد نے FBI کو اُس کے بارے میں سراغ دیا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: امریکہ کے ٹیکساس میں ایک پاکستانی دہشت گرد نے ایک یہودی مندر (سینیگاگ) میں حملہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنانے کےبعد ٹیکساس کی جیل میں بند پاکستان کی عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کی مانگ کی ہے۔ عافیہ صدیقی پاکستانی شہری اور سائنسداں ہیں۔ عافیہ صدیقی کو لیڈی القاعدہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے امریکی فوجیوں کو مارنے کی کوشش کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ نیویارک کورٹ کے فیصلے کے بعد دہشت گردانہ سرگرمیوں مین شامل ہونے کے الزام میں عافیہ صدیقی امریکہ میں 86 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

      کئی خطرناک سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام
      پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر القاعدہ سے جڑے ہونے کا الزام ہے۔ اُن پر افغانستان مین امریکی خفیہ ایجنٹ، فوجی اور امریکہ میں رہ رہے سابق پاکستانی سفارتکار حسین حقانی کو مارنے کے لئے سازش کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ 2011 میں میموگیٹ اسکینڈل کے اہم سازشی کے طو رپر بھی جانا جاتا ہے۔ صدیقی 2018 میں بھی اُس وقت سرخیوں میں آئی تھیں جب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ میں اس بات کی ڈیل ہوئی ہے کہ ڈاکٹر شکیل احمد کے بدلے عافیہ صدیقی کو لوٹایا جائے گا۔ ڈاکٹر شکیل احمد نے القاعدہ سربراہ اوسامہ بن لادن کو مارنے میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد کی تھی۔

      نیوروسائنٹسٹ ہے عافیہ صدیقی
      عافیہ صدیقی میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی ہے۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اُس کا نام 2003 میں ہی آچکا تھا جب ایک دہشت گرد خالد شیخ محمد نے FBI کو اُس کے بارے میں سراغ دیا تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا۔ افغانستان میں اُس نے بگرام کی جیل میں ایک ایف بی آئی عہدیدار کو مارنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اُسے امریکہ ڈپورٹ کردیا گیا تھا۔

      ڈاکٹر عافیہ سماجی کارکن بھی ہے، اُس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ جس چیریٹی تنظیم سے مبینہ طور پر جڑی ہوئی تھی، اُس نے کینیا میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا تھا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد ایف بی آئی نے مئی 2002 میں عافیہ اور اُس کے شوہر امجد خان سے طویل پوچھ تاچھ کی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: