خوشی کے پیمانے پر پاکستان ہم سے آگے کیسے؟

ارے پاکستانیو! تم جو ہم سے اتنے ہی زیادہ خوش ہو تو پھر ہمارے یہاں کے آئی پی ایل میں کھیلنے کے لئے کیوں مرے جا رہے ہو؟

Apr 23, 2019 03:06 PM IST | Updated on: Apr 23, 2019 03:06 PM IST
خوشی کے پیمانے پر پاکستان ہم سے آگے کیسے؟

خوشی کے پیمانے پر پاکستان ہم سے آگے کیسے؟

بالاکوٹ میں پاکستان کو دھول چٹانے کا جشن بھی ٹھیک سے منا نہیں پائے تھے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ دندناتی ہوئی آئی اور ہماری ساری خوشیوں پر سرجیکل اسٹرائک کرتی نکل گئی۔ الیکشن کی گرمی میں آپ مس کر گئے ہوں گے۔

ابھی تو پاکستان کے وزیر اعظم قومی ٹیلی ویژن پر بتا رہے تھے کہ ان کے یہاں تو دہشت گردی ہی دہشت گردی ہے۔ جب دیکھو بم پھٹتے رہتے ہیں، سڑکوں پر لاشیں پڑی رہتی ہیں اور اب اقوام متحدہ کی رپورٹ یہ کہہ رہی تھی کہ ’ ہیپی نیس انڈیکس‘ میں وہ ہم سے آگے ہیں۔ جھوٹا کون ہے؟ پاکستان کی حکومت یا پھر اقوام متحدہ کی رپورٹ؟

Loading...

یہ کس طرح کا فریب ہے، کس طرح کی سازش ہے پاکستانیو! خوشحال ملکوں کی اس طویل فہرست میں 139 ملک ہم سے آگے ہیں۔ لیکن اس کی ہمیں بہت پروا نہیں۔ ہمارا تو سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کس جگاڑ سے اپنے نمبر ہم سے زیادہ کروا لئے۔ فہرست میں 156 ممالک ہی تھے۔ ہمارا نمبر 140۔ اس سال کا رپورٹ کارڈ تو پچھلے سال سے بھی خراب تھا۔ پچھلے سال 133 واں نمبر تھا۔ اس سال 7 پائیدان لڑھک گیا۔ 156 کی فہرست میں 155 واں نمبر بھی ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ بس پاکستان ہم سے پیچھے ہوتا۔

انتخابی سال ہے اور دیکھئے ہندوستان کی ترقی غیر ملکی طاقتوں سے برادشت نہیں ہو پا رہی ہے۔ نمبر تو ویسے بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو بھی ہم سے زیادہ ملے۔ پر جو درد ڈسکو پاکستان کی وجہ سے ہمارے یہاں ہوتا ہے ویسا کسی اور کے آگے جانے سے نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کا یا تو خوشی ناپنے کا بیرومیٹر ہی خراب ہو چکا ہے یا پھر جیسے وہ ہمیں سیکورٹی کونسل میں رکنیت دینے کا جھانسہ دیتے رہتے ہیں لیکن دیتے نہیں، ویسے تو ہمیں ترسانے کا یہ بھی کوئی نیا طریقہ ہے۔

معیشت ہماری عروج پر ہے لیکن ہیپی وہ ہیں

جتنا بھی دیکھو، چاہے پاکستان کا ٹی وی ہو یا سنیما، ہمیشہ روتے ہوئے اور مرتے کی خبر لائے حال جیسا ہوتا ہے۔ ان کے برعکس ہمارا بالی ووڈ سنیما اور ہمارے سیریل۔ کروڑوں کے سودے سے نیچے کی تو بات ہی نہیں ہوتی ہے۔ ہیرو۔ ہیروئن گانا سوئٹرزلینڈ میں گاتے ہیں اور ناشتہ کرنے ہونولولو جاتے ہیں۔ بھائی انٹرٹینمنٹ تو اسے کہتے ہیں۔ اور جب انٹرٹین ہندوستان ہو رہا ہے تو خوشی پر بھی ہمارا ہی حق ہے۔ ہمارے یہاں کے اشتہارات دیکھئے۔ لوگ خوش ہیں، صحت مند ہیں اور ترقی کر کر رہے ہیں۔

اور اس رپورٹ کی بنیاد پر وہ ساری رپورٹیں شک کے گھیرے میں رکھی جا سکتی ہیں جن میں پاکستان کو ہم سے آگے بتایا گیا ہے۔ بھلے ہی:۔

فی کس جی ڈی پی کے معاملہ میں ہم دنیا میں 122 ویں نمبر پر ہیں۔

کم از کم اجرت کے معاملہ میں دنیا میں 124 ویں نمبر پر ہیں۔

عام لوگوں تک صحت سہولیات پہنچانے میں ہندوستان دنیا کے 195 ملکوں میں 145 ویں نمبر پر ہے۔

لائف ایکسپیکٹینسی میں 125 ویں نمبر پر ہیں۔

بچوں کی شرح اموات میں 113 ویں نمبر پر ہیں۔

گلوبل ہیومن انڈیکس میں 103 نمبر پر ہیں۔

فی کس صحت اخراجات میں 140 ویں نمبر پر ہیں۔

ایجوکیشن انڈیکس میں 145 ویں نمبر پر ہیں۔

ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 133 ویں نمبر پر ہیں۔

صنفی مساوات میں 125 ویں نمبر پر ہیں۔

شہرکاری انڈیکس میں 161 ویں نمبر پر ہیں۔

ایک ایسا انڈیکس نہیں جس میں ان غیر ملکیوں نے ہمیں اچھے نمبر دئیے ہوں۔ کلاس کسی بھی سبجیکٹ کی ہو، اٹھا کر سب سے پیچھے والی بینچ پر بٹھا دیا ہے۔ ہماری حالت تو اس بچے کی طرح ہے جس نے پورے سال گھر میں پڑھنے کا احساس دلایا اور اب فیل ہو کر رپورٹ کارڈ چھپاتا گھوم رہا ہے کہ کہیں والد نے دیکھ لیا تو اس کی خوب پٹائی ہو گی۔

یہ فرنگی ہر سال کوئی نئے اعدادوشمار لے آتے ہیں عزت سے بے عزتی کرنے کے لئے۔ پچھلے سال ٹامسن رائٹرز فاؤنڈیشن والے کہہ رہے تھے کہ خواتین کے تحفظ کے معاملہ میں ہم پاکستان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ پاکستان ہی کیا، افغانستان، شام، صومالیہ اور سعودی عرب سے بھی گئے گزرے ہیں۔ اب گلول انٹرپارلیمنٹری یونین کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ صنفی مساوات کے معاملہ میں بھی ہم ان سے پیچھے ہیں۔ ان کی پارلیمنٹ میں ہم سے زیادہ خواتین ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں 20.6 فیصد خواتین ہیں اور ہمارے یہاں صرف 12.6 فیصد۔

ارے پاکستانیو! تم جو ہم سے اتنے ہی زیادہ خوش ہو تو پھر ہمارے یہاں کے آئی پی ایل میں کھیلنے کے لئے کیوں مرے جا رہے ہو؟

سب جانتے ہیں کہ پاکستان اور دنیا کے باقی کرکٹنگ ممالک کس طرح کے جھوٹ پھیلاتے ہیں۔ جیسے یہ کہ 1999 میں عمران خان نے ہندوستان کی زمین پر نہرو کپ جیتا تھا۔

ہم جانتے ہیں، ایسا کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس ہیپی نیس انڈیکس کی رپورٹ کی طرح۔ 

 

 

Loading...