اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیرہندوستان کوکیوں دے رہے ہیں دھمکی، یہ ہیں وجوہات

    پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل سید عاصم منیر

    پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل سید عاصم منیر

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نیا بیان صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ پاکستان کو خطرہ انڈیا سے نہیں تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔ حال ہی میں ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Islamabad
    • Share this:
      پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل سید عاصم منیرسینچر کے روز گلگت بلتستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے دورے پر تھے۔ یہاں جنرل نے انڈیا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ آرمی چیف نے یہ بات ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ہندوستانی فوج کے شمالی فوجی کمانڈرکے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی ہے۔یادرہے کہ مرکزی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے اکتوبر میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان ہندوستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگست 2019 میں ہندوستان نے آرٹیکل 370 کو ہٹا کر جموں و کشمیر، ہندوستان کی دیگرریاستوں کی طرح اختیارات دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل دویدی نے پی او کے کو ہندوستان میں شامل کرنے پر بیان دیا تھا کہ ہندوستانی فوج حکومت کے ہر حکم کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

      پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی سب سے بڑا خطرہ


      دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نیا بیان صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ پاکستان کو خطرہ انڈیا سے نہیں تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔ حال ہی میں ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی کا یہ معاہدہ اس سال جون میں ہوا تھا۔ 29 نومبر کو، جنرل منیر کی کمان سنبھالنے سے صرف ایک دن پہلے، ٹی ٹی پی نے غیر معینہ جنگ بندی ختم کر دی۔ ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کا حکم جاری کیا۔ تنظیم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں مجاہدین کے خلاف فوجی آپریشن کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اس کے دہشت گردوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جہاں بھی ہو حملے کریں۔

      یہ بھی پڑھیں

      ٹی ٹی پی نے دہشت گردانہ حملے تیز کر دیے


      ٹی ٹی پی، ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ملک میں اسلامی قانون نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ وہ اپنے کئی بڑے دہشت گردوں کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ بھی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔۔ ٹی ٹی پی یہ بھی چاہتی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ 16 نومبر کو ہی ٹی ٹی پی نے لکی مروت میں پولیس چوکی کو نشانہ بنایا، جو پشاور سے 200 کلومیٹر دور ہے۔ اس حملے میں چھ پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ امریکہ میں قائم پیس انسٹی ٹیوٹ کے سیکورٹی ماہر اسفند یار میر کے مطابق، ٹی ٹی پی نے حال ہی میں اپنے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی قبائلی علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

       جنرل عاصم منیر کو درپیش چیلنج


      دفاعی ماہرین کے مطابق جنرل منیر نے اپنے باس جنرل ریٹائرڈ جنرل قمر جاوید باجوہ سے زیادہ انڈیا کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ انہوں نے پہلی بار عوام میں انڈیا مخالف بیان دیا ہے۔ اب سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے رویہ سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کے آرمی چیف بنے ہیں جب انہیں گھریلو محاذ پر اپنی قابلیت اور ترجیحات کو ثابت کرنا ہے۔ ایسے میں یہ کبھی نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ انڈیا کو کبھی دوست سمجھیں گے


      انڈیا بھی ہر طرح سے ہے تیار


      پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل باجوہ نے اس معاہدے کو ایک نئی شکل دی۔ جنرل منیر اس جنگ بندی کا احترام کریں گے لیکن وہ بھی انتہائی سختی سے۔ جنرل منیر وہی شخص ہے جس کی قیادت میں فروری 2019 میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا کیاگیاتھا جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ انڈیا اچھی طرح جانتا ہے کہ جنرل منیر کس قسم کی خطرناک منصوبہ بندی کر سکتے ہیں جو انٹیلی جنس کے ماہر ہیں اور جموں و کشمیر کے ہر کونے سے باخبر ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: