کشمیر کے بغیر بات چیت پاکستان کے لئے ناممکن: سرتاج عزیز

اسلام آباد۔ ہندستان- پاکستان کے درمیان این ایس اے کی سطح کی بات چیت پر چل رہی گہما گہمی کے درمیان آج پاکستان کے قومی سلامتی صلاح کار،این ایس اے سرتاج عزیز سامنے آئے۔

Aug 22, 2015 02:52 PM IST | Updated on: Aug 22, 2015 04:49 PM IST
کشمیر کے بغیر بات چیت پاکستان کے لئے ناممکن: سرتاج عزیز

اسلام آباد۔  ہندستان- پاکستان کے درمیان این ایس اے کی سطح کی بات چیت پر چل رہی گہما گہمی کے دوران قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز نے اس استدلال کے ساتھ کہ ہندستان اور پاکستان دونوں قیام امن کے لئے مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں ، آج دوٹوک کہہ دیا کہ ہندستان کے ساتھ اس وقت تک سنجیدہ بات چیت ممکن نہیں جب تک’’ کشمیر‘‘ اس میں شامل نہیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر کل ہندستان جانے کو تیار ہیں۔

اپنے ہندستانی ہم منصب اجیت ڈوول سے طے شدہ ملاقات سے قبل حریت رہنماوں اور کشمیر کے تعلق سے متضاد مواقف کے سبب پیدا شدہ ماحول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر عزیز نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندستان کا موقف یہ ہے کہ اس کی شرطوں پر اورکشمیر کو چھوڑ کر دیگر امور پربات چیت کی جائے اور ’’یہ ہمارے لئے ممکن نہیں‘‘۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پچھلے سال ہندستان نے اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات جس حوالے سے منسوخ کی تھی اگر اس بار بھی ایسا ہوتا ہے تو یہ افسوسناک ہوگا۔ ان کا واضح اشارہ حریت رہنماوں سے ملاقات اور کشمیر کی طرف تھا ۔

Loading...

مسٹر عزیز نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہ پاکستان نے طے شدہ ایجنڈے سے کہیں انحراف کیا ہے ،کہا کہ پاکستان نے تمام دیرینہ امور پر بات چیت کی صورتیں وضع کرنے کا جائزہ لینے سمیت جو تین نکاتی ایجنڈہ پیش کیا ہے وہ عین اوفا مفاہمت کے مطابق ہے جو کشمیر کے مسئلے کا بھر پور احاطہ کرتا ہے۔’’اس لحاظ سے ہندستان کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ ایجنڈے میں کشمیر شامل نہیں تھا‘‘۔

حریت رہنماوں کی مبینہ گرفتاری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قراردیا اور وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ قیام امن کی مشترکہ ذمہ داری کو بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ ہم نے ایجنڈا واضح کر دیا تھا کہ کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل کو حل کرنے کے بارے میں بھی بات ہوگی اور کم از کم کشمیر کے معاملے پر بات چیت آگے بڑھانے کے طور طریقوں پر تو بحث ہونی ہی چاہیے. کشمیر کے مسئلہ کے بغیر ہندستان کے ساتھ کوئی سنجیدہ اور بامعنی بحث ہو ہی نہیں سکتی.

انہوں نے کہا کہ حریت رہنماؤں سے ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے. کئی سالوں سے یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان کو ڈوزئیر کے حوالے سے بات کر رہا ہے لیکن جب وہ بات چیت کے لئے جائیں گے تو درون پاکستان ہندستانی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے چلائی جا رہی سرگرمیوں کے بارے میں تین ڈوزئیر  ہندستان کے قومی سلامتی کے مشیر کو سونپیں گے. اگر وہ مذاکرات کے لیے دہلی نہیں جا پائے تو اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نيويارك میں مسٹر ڈوال کو یہ ڈوزئیر کے سونپے جائیں گے۔

عزیز نے کہا کہ یہ میٹنگ کشمیر، دہشت گردی اور ایل او سی پر امن قائم کرنے کے لئے طے کی گئی تھی۔ اوفا میں تمام اہم مسائل پر بات چیت پر اتفاق ہوا تھا۔ کشمیر اگر مسئلہ ہی نہیں ہے تو وہاں لاکھوں فوجیوں کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کشمیر مسئلہ نہیں ہے تو وہاں حقوق کی بات کیوں ہوتی رہتی ہے؟

عزیز نے پاکستان پر لگائے گئے ہندستان کے الزامات کو غلط بتایا اور کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت پھر منسوخ ہوتی ہے تو یہ شرمناک ہو گا۔ عزیز نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ہندستان نے خارجہ سکریٹری کی سطح کے مذاکرات کو منسوخ کیا تھا ۔ یہ مذاکرات 25 اگست 2014 کو ہونے تھے۔

Loading...