امریکی انتباہ اور عالمی دباؤ کے باوجود ترکی کا شمالی شام میں فوجی مہم جاری رکھنے کا اعلان

ترکی کے صدر نے کہا،’’ہم نے پی وائی ڈی/وائی پی جی کے خلاف جو قدم اٹھایا اسے ہم کبھی نہیں روکیں گے۔ کوئی کچھ بھی کہے،ہم اسے نہیں روکیں گے‘‘۔

Oct 12, 2019 12:38 PM IST | Updated on: Oct 12, 2019 12:39 PM IST
امریکی انتباہ اور عالمی دباؤ کے باوجود ترکی کا شمالی شام میں فوجی مہم جاری رکھنے کا اعلان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان: فائل فوٹو، فوٹو، یو این آئی۔

انقرہ۔ ترکی نے امریکی وارننگ اور بین الاقوامی دباؤں کے باوجود شمالی شام میں اپنی فوجی مہم کو روکنے سے انکار کردیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے جمعہ کو یہ بات کہی۔ اردغان نے استنبول میں این ٹی وی ٹیلی ویژن چینل کی جانب سے نشر اپنے خطاب میں کہا،’’اس مہم کو روکنے کےلئے ہمیں چاروں طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر لیڈروں کو کرد لڑاکوں کو ملنے والی امریکی فوجی مدد بند کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ ترکی کے صدر نے کہا،’’ہم نے پی وائی ڈی/وائی پی جی کے خلاف جو قدم اٹھایا اسے ہم کبھی نہیں روکیں گے۔ کوئی کچھ بھی کہے،ہم اسے نہیں روکیں گے‘‘۔

اس سے پہلے ترکی نے بدھ کو شمالی شام میں کرد لڑاکوں کی قیادت والی فوج اور اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف حملے کرکے’ آپریشن پیس اسپرنگ‘ نامی اپنی فوجی مہم کی شروعات کردی ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سرحد کے نزدیک محفوظ علاقہ بنانے کے لئے یہ حملے کررہا ہے۔ ترکی کی اس فوجی مہم کی عرب لیگ، یورپی یونین کے اراکین سمیت مغربی ملکوں نے بھی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی حمایت یافتہ کرد لڑاکے شام میں اپنے حامیوں کے ساتھ داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ شام کے شمالی علاقے میں اس وقت کرد لڑاکوں کی قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا قبضہ ہے۔ ترکی کا خیال ہے کہ اس کا تعلق یہ وائی پی جی لڑاکوں جیسے پی کےکے سے ہے۔

Loading...

Loading...