உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NATO Membership: کیا سویڈن اور فن لینڈ آسانی سے بن جائیں گے ناٹو کے ممبر؟ روسی صدر نے دی کھلی دھمکی

    کیا سویڈن اور فن لینڈ آسانی سے بن جائیں گے ناٹو کے ممبر؟ روسی صدر نے دی کھلی دھمکی

    کیا سویڈن اور فن لینڈ آسانی سے بن جائیں گے ناٹو کے ممبر؟ روسی صدر نے دی کھلی دھمکی

    World News: تقریباً ڈیڑھ دن تک جاری رہنے والی طویل بحث کے بعد فن لینڈ کے 200 میں سے 188 قانون سازوں نے ناٹو کی رکنیت کے حق میں ووٹ دیا، جو کہ فن لینڈ کی 75 سال پرانی فوجی نان الائنمنٹ کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : سویڈن اور فن لینڈ نے ناٹو میں شمولیت کے لیے رکنیت کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے فوجی اتحاد کو روکنے کی دھمکی کے باوجود کیا گیا ہے۔ سویڈن کے وزیر اعظم میگدالینا اینڈرسن نے فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینیستو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا:  'مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ایک جیسا راستہ منتخب کیا ہے اور ہم ایک ساتھ مل کرطے کر سکتے ہیں'۔ فن لینڈ کی روس کے ساتھ 1300 کلومیٹر کی سرحد ہے۔ وہیں سویڈن بھی روس کے یوکرین پر حملے سے پریشان ہے۔ روسی حملہ کے خلاف دفاع کے طور پر اتحاد میں شامل ہونے سے کئی دہائیوں سے چلی آرہی فوجی نان الائنمنٹ ختم ہو جائے گی۔

      وہیں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دھمکی دی ہے کہ ناٹو کی توسیع روس کو جواب دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ لیکن فن لینڈ اور سویڈن کی رکنیت میں جو رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے وہ اتحاد کے اندر سے ہی آ سکتی ہے۔ تاہم ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے بار بار زور دے کر کہا کہ وہ دونوں ممالک کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ دوسری جانب ترکی نے فن لینڈ اور سویڈن پر دہشت گرد گروپوں کے گڑھ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس توسیع کو منظوری نہیں دیں گے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : فن لینڈ اور سوئیڈن کے نیٹو میں شامل ہونے کی بحث کے درمیان روسی صدر پوتن نے دیا بڑا بیان


      حالانکہ واشنگٹن میں خارجہ ترجمان نیڈ پرائس نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ انقرہ دونوں ممالک کے اتحاد میں شامل ہونے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ وہیں اینڈرسن اور نینستو اس تاریخی بولی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیف بوریل نے کہا ہے کہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد بولی کی مکمل حمایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ناٹو کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور اس سے یوروپ کی طاقت اور تعاون میں اضافہ ہوگا۔ بتادیں کہ کسی بھی رکنیت کی بولی صرف اس وقت قبول کی جاتی ہے جب ناٹو کے تمام 30 اراکین اس سے متفق ہوں ۔

      تقریباً ڈیڑھ دن تک جاری رہنے والی طویل بحث کے بعد فن لینڈ کے 200 میں سے 188 قانون سازوں نے ناٹو کی رکنیت کے حق میں ووٹ دیا، جو کہ فن لینڈ کی 75 سال پرانی فوجی نان الائنمنٹ کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے فن لینڈ کی صدر سنا مارین نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہماری سلامتی کا ماحول بنیادی طور پر بدل گیا ہے۔ روس وہ واحد ملک ہے جو یوروپ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور کھل کر لڑنے پر آمادہ ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : Russia attack Finland:ناٹو کی رکنیت کو لے کر کیوں متحرک ہے فن لینڈ؟کیا ہے ماہرین کی رائے؟


      سویڈن اور فن لینڈ تقریباً ایک صدی تک روسی سلطنت کا حصہ تھا ۔ اسے 1917 میں آزادی ملی تھی۔ پھر 1939 میں سوویت یونین نے اس پر حملہ کیا تھا۔ عوامی رائے کے مطابق فن لینڈ کے تقریباً تین چوتھائی لوگ اتحاد کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ یہ تعداد اس سے تین گنا زیادہ ہے جو یوکرین کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے سے پہلے رائے رکھتی تھی ۔ وہیں سویڈن کی یہ تبدیلی کافی چونکا دینے والی ہے، کیونکہ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار رہا تھا اور پچھلے 200 سالوں سے فوجی اتحاد سے باہر ہے۔

      ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ہیلسنکی اور اسٹاک ہوم  پر کردستان ورکر پارٹی کے دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے، جس نے کئی دہائیوں سے ترکی کے خلاف بغاوت چھیڑ رکھی ہے۔ سویڈن نے بھی انقرہ کے پڑوسی ملک شام پر فوجی حملے کو لے کر 2019 میں ہتھیاروں کی فروخت بھی معطل کر دی تھی۔

      اردوغان نے کہا ہے کہ ہم ناٹو میں شمولیت کے لیے ترکی پر پابندیاں لگانے والوں کو ہاں نہیں کہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے کسی بھی ملک کا واضح موقف نہیں ہے۔ اے ایف پی کو سفارتی ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ترکی نے سویڈن اور فن لینڈ کی رکنیت کے حق میں ناٹو کے اعلان کو روک دیا ہے۔ اب سویڈن اور فن لینڈ نے ترک حکام سے ملاقات کے لیے وفود بھیجے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: