உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بعد طالبان پر ہوگی کارروائی؟ ناٹو ممالک کے سفارت کاروں کی اہم میٹنگ

    افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے مسلسل حملوں کے پیش نظر ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کے تیزی سے بگڑنے کے درمیان افغانستان (Afghanistan) کے سانحہ پر تبادلہ خیال کے لئے ناٹو افواج کے سفیر ہفتہ کے روز میٹنگ کر رہے ہیں۔

    افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے مسلسل حملوں کے پیش نظر ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کے تیزی سے بگڑنے کے درمیان افغانستان (Afghanistan) کے سانحہ پر تبادلہ خیال کے لئے ناٹو افواج کے سفیر ہفتہ کے روز میٹنگ کر رہے ہیں۔

    افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے مسلسل حملوں کے پیش نظر ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کے تیزی سے بگڑنے کے درمیان افغانستان (Afghanistan) کے سانحہ پر تبادلہ خیال کے لئے ناٹو افواج کے سفیر ہفتہ کے روز میٹنگ کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے مسلسل حملوں کے پیش نظر ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کے تیزی سے بگڑنے کے درمیان افغانستان (Afghanistan) کے سانحہ پر تبادلہ خیال کے لئے ناٹو افواج کے سفیر ہفتہ کے روز میٹنگ کر رہے ہیں۔ ناٹو کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ ناٹو کے جنرل سکریٹری جے اسٹول ٹینبرگ اور 30 سفیر برسیلس میں میٹنگ میں حصہ لے رہیں۔

      افسر نے کہا، ’معاون افغانستان کی صورتحال پر مسلسل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اسٹول ٹینبرگ ’معاونین اور افغان افسران کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں‘۔ افسر نے کہا، ’ناٹو سیکورٹی صورتحال کی بہت باریکی سے نگرانی کر رہا ہے۔ ہم افغان افسران اور باقی بین الاقوامی برادری کے ساتھ  کوآرڈی نیشن کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔ ناٹو نے 2003 میں افغانستان میں بین الاقوامی سیکورٹی مہم کا کام کاج سنبھالا تھا، جو یوروپ اور شمالی امریکہ کے باہر اس کا پہلا اہم مہم تھا۔ اس مہم کا مقصد حکومت کو مستحکم کرنا، مقامی سیکورٹی اہلکاروں کا قیام عمل میں لانا تھا۔ امریکی قیادت والے فوجی اتحاد نے 2014 میں افغان سیکورٹی اہلکاروں کو ٹریننگ دینے پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے جنگی مہم کو بند کردیا تھا۔

       اقتدار میں شراکت داری کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے افغانستان (Afganistan) کے صوبوں پر بم برسانا جاری رکھا ہے اور وہ کابل سے محض 80 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے۔ امن مذاکراتی کمیٹی نیا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہے، جس میں صدر اشرف غنی کی حکومت کی پوری طرح سے بے دخلی ہوسکتی ہے۔

      اقتدار میں شراکت داری کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے افغانستان (Afganistan) کے صوبوں پر بم برسانا جاری رکھا ہے اور وہ کابل سے محض 80 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے۔ امن مذاکراتی کمیٹی نیا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہے، جس میں صدر اشرف غنی کی حکومت کی پوری طرح سے بے دخلی ہوسکتی ہے۔


      اس سے قبل بھی ناٹو نے افغانستان پر طالبان کے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ناٹو نے طالبان کو حملے بند کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن طالبان مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ طالبان اب تک 12 سے زیادہ افغانستان کے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ ہوچکا ہے اور مانا جا رہا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو کابل بھی اس کے قبضے میں جلد ہی آجائے گا۔

      طالبان نے مسترد کردی افغان حکومت کی یہ پیشکش

      اقتدار میں شراکت داری کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے طالبان نے افغانستان (Afganistan) کے صوبوں پر بم برسانا جاری رکھا ہے اور وہ کابل سے محض 80 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے۔ امن مذاکراتی کمیٹی نیا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہے، جس میں صدر اشرف غنی کی حکومت کی پوری طرح سے بے دخلی ہوسکتی ہے۔ سی این این - نیوز 18 (CNN-News18) کو اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے خبر ملی ہے کہ افغانستان میں جنگ بندی کے لئے جس نئے فارمولے پر کام ہو رہا ہے، اس کے تحت اشرف غنی انتظامیہ کو پیچھے ہٹنا ہوگا۔ طالبان، فوجی افسران اور کچھ موجودہ نمائندوں کے ساتھ عبوری حکومت بنائی جائے گی۔ تمام تبادلہ خیال کے بعد یہ فارمولہ سبھی متعلقہ جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ چونکہ یہ ابھی ابتدائی سطح پر ہے، اس لئے منصوبہ کسی بھی شراکت دار کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی ہے، چاہے پھر وہ افغان حکومت ہو یا پھر طالبان۔ الجزیرہ نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ افغان صلح کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ طالبان نے امن مذاکرات سے متعلق کسی طرح کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعہ سیاسی حل پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ثالثی بھی طے کیا ہے۔ یہ بات افغانستان حکومت کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ امن وامان والی حکومت قائم کرنے کے بدلے میں اقتدا شیئر کرنے کی تجویز دینے کے بعد باہر نکل کر آئی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: