உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل ایئر پورٹ پر دھماکہ کرکے دنیا کو دہلایا، کیا ہندوستان کے لئے خطرہ ہے آئی ایس خراسان؟

    کابل ایئر پورٹ پر دھماکہ کرکے دنیا کو دہلایا، کیا ہندوستان کے لئے خطرہ ہے آئی ایس خراسان؟

    کابل ایئر پورٹ پر دھماکہ کرکے دنیا کو دہلایا، کیا ہندوستان کے لئے خطرہ ہے آئی ایس خراسان؟

    افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد اب اتنے بڑے دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ آئی ایس-کے اور طالبان کے درمیان سخت دشمنی کا خمیازہ نہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان بھی اس میں شامل ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کابل ایئر پورٹ (Kabul Airport) پر جمعرات کی شام خود کش حملے میں اب تک 170 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ مہلوکین میں 13 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ -خراسان (IS-K) نے لی ہے۔ افغانستان میں طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد اب اتنے بڑے دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ آئی ایس-کے اور طالبان کے درمیان شدید دشمنی کا خمیازہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان بھی ان میں شامل ہے۔

      فی الحال آئی ایس- کے کی سرگرمی افغانستان کے ہی کچھ علاقوں میں ہے۔ افغانستان کے دو صوبوں پر اس نے اپنی صورتحال کو مضبوط بنا رکھا ہے۔ خراسان کو فارسی میں خراسان-کہن بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم خراسان وسطی ایشیا کا ایک تاریخی علاقہ تھا، جس میں جدید افغانستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور مشرقی ایران کے بہت سے حصے شامل تھے۔ اس میں کبھی کبھی سوگدا اور آمور پر علاقے شامل کئے جاتے تھے۔ ایران میں اب بھی خراسان نام کا ایک صوبہ ہے، جو اس تاریخی خراسان علاقے کا صرف ایک حصہ ہے۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس خراسان کا خواب ہے کہ وہ اس پورے علاقے کو ملاکر پھر سے خراسان علاقے کو زندہ کرے گا۔

      شہریوں کے لئے بڑا خطرہ

      سینٹر آف اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق، سال 2015 اور 2017 کے درمیان ISIS-K نے افغانستان اور پاکستان میں عام شہریوں پر 100 حملے کئے ہیں۔ اسی دوران تقریباً 250 حملے امریکی، پاکستانی اور افغان فوجیوں پر ہوئے ہیں۔ تب سے ہی ان کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔ آئی ٹی وی نیوز گلوبل سیکورٹی کے ایڈیٹر روہت کاچرو کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایس-کے افغانستان کے خراسان علاقے میں 6 سالوں سے کام کر رہا ہے۔ اس نے ’عام شہریوں پر سینکڑوں حملے کئے ہیں‘۔

      ہندوستان کے لئے کیسے ہوسکتا ہے خطرہ؟

      اسلامک اسٹیٹ کے لنکس ہندوستان کے تلنگانہ، کیرلا، آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، مہاراشٹر، مغربی بنگال، راجستھان، اترپردیش، مدھیہ پردیش اور جموں وکشمیر جیسے ریاستوں میں مل چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کیرلا اور کرناٹک میں اسلامک اسٹیٹ سے منسلک مبینہ دہشت گرد ہوسکتے ہیں۔ وہیں سال 2015 میں جموں وکشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں اسلامک اسٹیٹ خراسان کے لنک ملے تھے۔ گزشتہ وقت میں آئی ایس سے منسلک مشکوک افراد کی گرفتاری کے ساتھ ہندوستانی ایجنسیوں کی سخت نگاہ اس دہشت گرد تنظیم پر بنی ہوئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: