உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قبرستان میں کنکالوں کے ساتھ ناچ رہی تھی نن ، خوفناک نظارہ دیکھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش

    قبرستان میں کنکالوں کے ساتھ ناچ رہی تھی نن ، خوفناک نظارہ دیکھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش (Credit- Hull Live)

    قبرستان میں کنکالوں کے ساتھ ناچ رہی تھی نن ، خوفناک نظارہ دیکھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش (Credit- Hull Live)

    قبرستان کے پاس اس نظارے کو دیکھنے کیلئے لوگوں نے اپنی گاڑیاں بھی دھیمی کردیں اور وہ حیران ہو کر خاتون کو کنکال کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے رہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ذرا سوچئے ، یہ کتنا خوفناک نظارہ ہوگا جب آپ کسی شخص کو لاشوں کے درمیان کنکالوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھ لیں ۔ دن کی روشنی میں United Kingdom کی Hull City میں ایسا ہوا ۔ یہاں کے لوگوں نے قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک نن کو کنکالوں کے ساتھ بے فکر ہوکر کھیلتے اور ناچتے ہوئے دیکھا ۔

      Hull Live کی رپورٹ کے مطابق ایک راہگیر نے اس عجیب و غریب واقعہ کی تصویر بھی کیمرے میں قید کرلی ۔ تصویر میں خاتون کے ہاتھ میں انسان اور کتے کے کنکال کو صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظارے کو کسی ایک شخص نے نہیں ، بلکہ وہاں سے گزرنے والے سبھی لوگوں نے دیکھا ۔

      قبرستان کے پاس اس نظارے کو دیکھنے کیلئے لوگوں نے اپنی گاڑیاں بھی دھیمی کردیں اور وہ حیران ہو کر خاتون کو کنکال کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے رہے ۔ خاتون نے نن کی طرح کریم کلر کی ڈریس اور سر پر اسکارف لگا رکھا تھا ۔ وہ کنکالوں کے ساتھ کافی خوش دکھائی دے رہی تھی ۔ انسان کے کنکال کے ساتھ وہ ناچ رہی تھی اور کتے کے کنکال کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ جو بھی اس منظر کو دیکھ چکا ہے ، اس نے بتایا کہ واقعتا یہ انتہائی عجیب واقعہ تھا ۔ واقعہ کا ویڈیو بنانے والے سبھی لوگ اس پر الگ الگ رد عمل ظاہر کر رہے ہیں ۔ حالانکہ کوئی بھی کچھ صحیح سے نہیں بتا پارہا ہے ۔

      اس واقعہ کو دیکھنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ناچتی ہوئی یہ نن کسی اسٹنٹ یا آرٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے ۔ اس کے پیچھے کی وجہ تو پتہ نہیں چلی ، لیکن دن کی روشنی میں ایسا واقعہ لوگوں کیلئے موضوع بحث ضرور بن گیا ہے ۔ جس قبرستان میں یہ واقعہ پیش آیا ، اس کو تقریبا پچاس سالوں سے استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ اب بھی یہ شہر کے تاریخی مقامات کے طورپر موجود ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: