உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیوی نے شوہر کیلے بنا رکھے ہیں انتہائی خطرناک قوانین، سن کر اڑ جائیں گے کسی کے بھی ہوش!

    بیوی نے شوہر کیلے بنا رکھے ہیں انتہائی خطرناک قوانین، سن کر اڑ جائیں گے کسی کے بھی ہوش! (Credit- TikTok)

    بیوی نے شوہر کیلے بنا رکھے ہیں انتہائی خطرناک قوانین، سن کر اڑ جائیں گے کسی کے بھی ہوش! (Credit- TikTok)

    Rules for Husand : ایک ٹیکنو سیوی بیوی نے اپنے شوہر کو رشتے میں باندھ کر رکھنے کیلئے اس پر پوری طرح سے کنٹرول کررکھا ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بیوی اپنے اس ٹاکسک ریلیشن شپ کو سوشل میڈیا پر بھی بتا رہی ہے ۔

    • Share this:
      کوئی بھی رشتہ تب تک ہی خوبصورتی سے چلتا ہے جب تک اس میں ایک دوسرے کا احترام اور پیار ہو ۔ جب کوئی ایک پارٹنر دوسرے پر کنٹرول کرنے لگتا ہے تو رشتہ بھی لڑکھڑانے لگتا ہے ۔ ایک ٹیکنو سیوی بیوی نے اپنے شوہر کو رشتے میں باندھ کر رکھنے کیلئے اس پر پوری طرح سے کنٹرول کررکھا ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بیوی اپنے اس ٹاکسک ریلیشن شپ کو سوشل میڈیا پر بھی بتا رہی ہے ۔

      @bmcpher نام کے ٹک ٹاک اکاونٹ سے بیلی نام کی اس یوزر نے بتایا ہے کہ اس نے اپنے شوہر پر شادی کی سخت شرائط تھوپ رکھی ہیں ۔ ان شرائط میں کچھ ایسی شرطیں بھی شامل ہیں ، جو عام طور پر اگر کسی لڑکی پر بھی لگائی جائیں ، تو برداشت نہیں کی جائیں گی ۔ خاتون عیسائی ہے اور اس نے بتایا ہے کہ شوہر کو اس نے شادی نبھانے کیلئے تمام بندشوں میں باندھ رکھا ہے ۔

      خاتون نے شادی کی شرطوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے لوگ ہماری شادی اور شوہر کیلئے بنائے گئے میرے قاعدے قانون کو لے کر مجھ سے ناراض ہوجائیں گے ۔ بیلی کا سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ اس کا شوہر کسی بھی خاتون سے دوستی نہیں کرے گا ۔ یہ دوستی آفس میں بھی نہیں ہوگی اور وہ لڑکیوں کے آس پاس بھی نہیں منڈرائے گا ۔ اس کے شوہر کو کسی لڑکی کو ٹیکسٹ میسیج بھی نہیں کرنا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو بیوی کو بتانا ہوگا ۔ اس کے علاوہ سب سے عجیب و غریب قانون خاتون نے یہ بنایا ہے کہ شوہر کی ترجیحات میں وہ سب سے اوپر ہوگی ۔ اگر اس کو ماں باپ اور بیوی میں منتخب کرنا ہوگا تو ہمیشہ بیوی کو ہی منتخب کرے گا ۔

      خاتون کے اس ویڈیو کو اب تک چھ لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں ۔ جس نے بھی یہ قانون سنا ، وہ سوچ میں پڑگیا ۔ کچھ لوگوں نے کمنٹ سیکشن میں اس پر بحث بھی شروع کردی ہے ۔ ایک یوزر نے لکھا کہ یہ تحفظ کا جذبہ بول رہا ہے ۔ ایک دوسرے یوزر نے اس کو پاگل پن قرار دیا ۔ حالانکہ اس خاتون کی حمایت کرنے والے لوگ بھی تھے ، جنہوں نے کہا کہ وہ قوانین سے متفق ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: