مثبت پہل : سعودی عرب میں خواتین کو ملا رائے دہی کا حق

سعودی عرب نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی آدھی آبادی کو ووٹ دینے کا حق دے دیا ہے ۔ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے ۔ فی الحال وہاں خواتین کو ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ کرنے کا کام چل رہا ہے

Aug 21, 2015 03:08 PM IST | Updated on: Aug 21, 2015 03:08 PM IST
مثبت پہل : سعودی عرب میں خواتین کو ملا رائے دہی کا حق

ریاض : سعودی عرب نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی آدھی آبادی کو ووٹ دینے کا حق دے دیا ہے ۔ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے ۔ فی الحال وہاں خواتین کو ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ کرنے کا کام چل رہا ہے ۔

سرکاری حکام کے مطابق یہ ایک نئے معاشرے کی تعمیر کے سمت میں ایک اہم قدم ہے ۔  اس سال کے آخر میں پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں ، جن میں خواتین کو ووٹ دینے کے حق کے ساتھ ہی الیکشن لڑنے کا بھی حق ہوگا ۔ سعودی گزٹ کے مطابق جمال السادی اور سفناز الشامت ووٹر لسٹ میں شامل ہونے والی ملک کی پہلی خواتین ہیں ۔  دونوں نے اتوار کو مکہ اور مدینہ کے الیکشن آفس جاکر فہرست میں اپنا نام جڑوايا ۔

ووٹروں کے رجسٹریشن کا پروگرام 21 دنوں تک چلنے والا ہے، لیکن الشامت نے کہا کہ اس نے طے کر رکھا تھا کہ وہ ملک کی پہلی خاتون ووٹر بنیں گی ۔ الشامت نے خواتین کی جانب سے انتخابات میں شرکت کو ملک کے تئیں فرض قرار دیا ۔  سال 2011 میں شاہ عبداللہ نے خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے کی منظوری دے دی تھی ۔ شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ شریعت کے تحت جو بھی ممکن ہے، وہ خواتین کے حقوق دینا چاہتے ہیں ۔

حکومت کے اس قدم کا سماجی کارکنوں اور تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کی بات ابھی بہت دور ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کیرن مڈلٹن نے اس فیصلہ خوش آئند بتایا ہے ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین اور مردوں کو مساوی حقوق دیے جانے کی سمت میں ابھی یہ محض ایک چھوٹا سا قدم ہے  ۔

Loading...

Loading...