உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ورلڈ اکنامک فورم نے Russiaپر کی بڑی کارروائی، توڑ دئیے رشتے، داوس سمٹ میں حصہ نہیں لے پائیں گی روسی کمپنیاں

    Russia Ukraine war :یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے باعث اب تک 22 لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکا نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ گیس اور کوئلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    Russia Ukraine war :یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے باعث اب تک 22 لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکا نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ گیس اور کوئلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    Russia Ukraine war :یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے باعث اب تک 22 لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکا نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ گیس اور کوئلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    • Share this:
      داوس: سوئٹزرلینڈ کے شہر داوس(Davos) میں قائم ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) نے روس(Russia) کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ اس نے روسی اولیگرچ کے زیر انتظام کمپنیوں کے ایک گروپ کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت کو بھی معطل کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کسی بھی شخص کو داوس میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ ورلڈ اکنامک فورم نے ایک بیان میں کہا، ’روس کے یوکرین(Ukraine) پر حملے کی مذمت کے بعد، فورم بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل کر رہا ہے۔‘ساتھ ہی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War: ایئرانڈیاپائلٹ نے ’آپریشن گنگا‘ فلائٹ کی شیئرکی ویڈیو، آخرکیاہے خاص؟

      بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فورم روسی اداروں کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر رہا ہے۔‘ کوئی بھی کالعدم شخص یا تنظیم ہماری کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگی۔ انہیں سالانہ اجلاس میں شرکت کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین پر حملے پر روس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے باعث اب تک 22 لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکا نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ گیس اور کوئلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:امریکہ نے روس سے گیس اور تیل پر لگائی پابندی، صدر جوبائیڈن نے کیا اعلان

      یوکرین کو دئیے جائیں گے مگ طیارے
      یوکرین کو بھی مغربی ممالک سے اسلحے کی بڑی سپلائی مل رہی ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم نے بدھ کو کہا کہ ان کا ملک نیٹو کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ جنگی طیارے یوکرین کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ فیصلہ ہے، جو شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے تمام رکن ممالک کو لینا چاہیے کیونکہ اس سے وسیع تر سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ وزیر اعظم میتیوز موراویکی نے کہا کہ اب یہ نیٹو اور امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ یوکرین کو مگ 29 جنگی طیارے فراہم کریں یا نہیں، جو روس کی جارحیت کا مقابلہ کر رہا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: