உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مشہور چرچ کے سامنے جوڑے نے کھینچوائی فحش پوز میں تصاویر، مچا ہنگامہ ، ملی یہ بڑی سزا

    مشہور چرچ کے سامنے جوڑے نے کھینچوائی فحش پوز میں تصاویر، مچا ہنگامہ ، ملی یہ بڑی سزا ۔ تصویر : Twitter/@moslenta

    مشہور چرچ کے سامنے جوڑے نے کھینچوائی فحش پوز میں تصاویر، مچا ہنگامہ ، ملی یہ بڑی سزا ۔ تصویر : Twitter/@moslenta

    تاجکستان کے ویڈیو بلاگر رسلان بوبیو نے حال ہی میں ایک ایسی حرکت کردی ہے ، جس کو لے کر ہنگامہ مچ گیا ہے ۔ رسلان نے ایک خاتون کے ساتھ ماسکو کے مشہور چرچ سینٹ بیسل کتھیڈرل کے سامنے کھڑے ہوکر ایک فحش تصویر کھینچوائی ہے ۔

    • Share this:
      مذہبی مقامات سے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی عقیدت وابستہ ہوتی ہے ، اس لئے ان مقامات کے اندر یا ان کے آس پاس ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہئے ، جس سے کسی کے بھی جذبات مجروح ہوجائیں ۔ مگر ایک جوڑے نے اس بات کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں رکھا اور روس کے ایک مشہور چرچ کے سامنے انتہائی فحش پوز دیتے ہوئے تصویر کھینچوائی ۔ تصویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر کافی ہنگامہ مچ گیا اور عیسائی مذہب کے لوگ تصویر پر اعتراض کررہے ہیں ۔

      تاجکستان کے ویڈیو بلاگر رسلان بوبیو نے حال ہی میں ایک ایسی حرکت کردی ہے ، جس کو لے کر ہنگامہ مچ گیا ہے ۔ رسلان نے ایک خاتون کے ساتھ ماسکو کے مشہور چرچ سینٹ بیسل کتھیڈرل کے سامنے کھڑے ہوکر ایک فحش تصویر کھینچوائی ہے ۔ اس تصویر میں خاتون نے ایک جیکیٹ پہن رکھی ہے ، جس کے پیچھے پولیس لکھا ہے ۔ تصویر کے وائرل ہونے سے روم میں ہنگامہ مچ گیا ہے اور سوشل میڈیا پر بلاگر کی جم کر تنقید کی جارہی ہے ۔ تصویر کے وائرل ہونے کے بعد رسلان کو پولیس نے گرفتار بھی کرلیا ہے اور دس دنوں کی جیل کی سزا بھی سنائی گئی ہے ۔

      تصویر : Twitter/@moslenta
      تصویر : Twitter/@terror_alarm


      ایک جانب جہاں لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہیں دوسری جانب پولیس کی بے حرمتی کی وجہ سے بھی اس تصویر پر لوگ اعتراض کررہے ہیں ۔ رسلان کو گزشتہ 30 ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ عدالت نے رسلان کو 10 دنوں کی سزا سنائی ہے اور سزا کاٹنے کے بعد اس کو تاجکستان ڈیپورٹ کردیا جائے گا ۔ تصویر وائرل ہونے کے بعد شخص نے ویڈیو بناکر لوگوں سے معافی بھی مانگی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایسا پھر کبھی نہیں کرے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: