ہوم » نیوز » عالمی منظر

آنگ سان سوچی کو لگا ایک اور بڑا جھٹکا ، روہنگیا قتل عام کے معاملہ پر اب یہ باوقار ایوارڈ لیا گیا واپس

دی سٹی آف لندن کارپوریشن نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ہم روہنگیا قتل عام معاملہ میں میانمار حکومت اور اس کے لیڈروں کے دوہرے رویہ کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں ۔

  • Share this:
آنگ سان سوچی کو لگا ایک اور بڑا جھٹکا ، روہنگیا قتل عام کے معاملہ پر اب یہ باوقار ایوارڈ لیا گیا واپس
آنگ سان سوچی کو لگا ایک اور بڑا جھٹکا ، روہنگیا قتل عام کے معاملہ پر اب یہ باوقار ایوارڈ لیا گیا واپس

نوبل امن انعام یافتہ اور میانمار کی لیڈر آنگ سان سوچی کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ دی سٹی آف لندن کارپوریشن نے سوچی کو دیا گیا ایوارڈ واپس لینے کا اعلان کردیا ہے ۔ ادارہ نے کہا ہے کہ وہ روہنگیا معاملہ پر سوچی کے رویہ سے خوش نہیں ہے ۔


خیال رہے کہ آنگ سان سوچی کو گزشتہ کچھ عرصہ سے دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دراصل سوچی نے گزشتہ دسمبر میں میانمار حکومت کی روہنگیا قتل عام کے معاملہ پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ( آئی سی جے ) میں پیروی کی تھی ۔ یہاں سوچی نے دلیل دی تھی کہ روہینگیا کے ساتھ میانمار میں آبروریزی ، قتل عام اور لوٹ مار جیسے واقعات پیش نہیں آئے تھے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ ایک دنگا تھا ۔


سی ایل سی نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ ہم روہنگیا قتل عام معاملہ میں میانمار حکومت اور اس کے لیڈروں کے دوہرے رویہ کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں ۔ دنیا کے سبھی انسانی حقوق کے کارکنان میانمار میں روہنگیاوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ، اس کو لے کر فکرمند ہیں ۔ سوچی سے یہ ایوارڈ بھی میانمار حکومت کے غلط کاموں کے تئیں ان کے نرم رویہ کی وجہ سے ہی لیا گیا ہے ۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ سوچی کو اس باوقار ایوارڈ کیلئے اس لئے منتخب کیا گیا تھا کیونکہ وہ دنیا بھر میں انسانیت دوست اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کی علامت تھیں ۔ حالانکہ یہ پرانی بات لگتی ہے اور اب حالات ویسے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ یہ ایوارڈ ونسٹن چرچل ، نیلسن منڈیلا اور اسٹیفن ہاکنگ جیسی عظیم شخصیات کو مل چکا ہے اور اس کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا ۔
First published: Mar 06, 2020 07:38 PM IST