உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Shocking : ڈاکٹر نے چائے میں اسپرم ڈال کر خاتون کو پلا دیا، پھر ہوا کچھ ایسا ، جان کر اڑ جائیں گے ہوش!

    ڈاکٹر نے چائے میں اسپرم ڈال کر خاتون کو پلا دیا، پھر ہوا کچھ ایسا، جان کر اڑ جائیں گے ہوش! (Image-shutterstock.com)

    ڈاکٹر نے چائے میں اسپرم ڈال کر خاتون کو پلا دیا، پھر ہوا کچھ ایسا، جان کر اڑ جائیں گے ہوش! (Image-shutterstock.com)

    Doctor accused of depositing his semen in a cup of tea he gave to a woman : برطانیہ میں ڈاکٹر کی لاپروائی نہیں بلکہ اس کی کرتوت سے ہر کوئی حیران ہے ۔ اس ڈاکٹر نے کچھ ایسا کیا کہ سن کر کسی کو بھی شرم آجائے ۔

    • Share this:
      لندن : دنیا بھر کے ڈاکٹرس اپنی لاپروائی کی وجہ سے اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ یہ لاپروائی جان بوجھ کر کی گئی ہو ۔ آپریشن یا علاج کے دوران چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے مریض کی جان پر بن آتی ہے ۔ لیکن برطانیہ میں ڈاکٹر کی لاپروائی نہیں بلکہ اس کی کرتوت سے ہر کوئی حیران ہے ۔ اس ڈاکٹر نے کچھ ایسا کیا کہ سن کر کسی کو بھی شرم آجائے ۔ 54 سالہ ڈاکٹر نکولس جان چیمپمن نے ایک کپ میں اسپرم ڈال کر اس کو ایک خاتون کو دیدیا۔ اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے ۔ اس معاملہ کو لے کر متاثرہ خاتون نے عدالت میں ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ۔ حالانکہ سماعت کے بعد عدالت نے ڈاکٹر کی مشروط ضمانت منظور کرلی ۔

      54 سالہ ڈاکٹر نکولس جان نارتھ کیری ہیلتھ سینٹر میں تعینات تھے۔ جن کو اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد معطل کر دیا گیا ۔ تاہم اس ڈاکٹر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو خارج کردیا ہے۔ سومریسٹ میں مجسٹریٹ کے سامنے اس معاملہ کی سماعت ہوئی ، جہاں اس ڈاکٹر پر خاتون کی رضامندی کے بغیر بالواسطہ طور پر سیکسوئل ایکٹیویٹی انجام دینے کا الزام لگایا ۔

      متاثرہ خاتون کے وکیل نے دونوں مجسٹریٹس کو بتایا کہ جب خاتون نے ڈاکٹر کا دیا ہوا ڈرنک ختم کیا تو اس کے بعد اس کو کپ میں مشکوک چیز نظر آئی ۔ اس سلسلہ میں پولیس میں شکایت کی گئی ۔ 3 دنوں کے بعد جب لیباریٹری کی رپورٹ آئی تو یہ اس چیز کے ڈاکٹر کا اسپرم ہونے کی تصدیق ہوئی ۔ وہیں اس ڈاکٹر کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ۔

      سماعت کے بعد عدالت نے جنوبی افریقہ میں مقیم اس ڈاکٹر کی مشروط ضمانت منظور کر لی ، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس کیس میں ملوث کسی گواہ سے رابطہ نہیں کرے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: