உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sierra Leone Blast: افریقی ملک سیرا میں بڑا حادثہ ، تیل ٹینکر میں بھیانک دھماکہ ، 99 افراد کی موت

    Sierra Leone Blast: افریقی ملک سیرا میں بڑا حادثہ ، تیل ٹینکر میں بھیانک دھماکہ ، 99 افراد کی موت

    Sierra Leone Blast: افریقی ملک سیرا میں بڑا حادثہ ، تیل ٹینکر میں بھیانک دھماکہ ، 99 افراد کی موت

    میئر نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ میئر نے دھماکے میں مارے گئے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
      فری ٹاؤن : مغربی افریقی ملک سیرا لیون میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا ہے ۔ یہاں تیل ٹینکر میں بھیانک دھماکہ ہوگیا ، جس کی وجہ سے کم از کم 99 لوگوں کی موت ہوگئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ۔ دارالحکومت فری ٹاؤن کے میئر یوون آکی سوئر نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی۔ یہ واقعہ ملک کی راجدھانی فری ٹاون میں پیش آیا ۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 40 فٹ لمبا تیل ٹینکر کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا گیا ۔ اس کے بعد اس میں بھیانک دھماکہ ہوا ، جس نے پورے علاقہ میں تباہی مچا دی ۔ واقعہ کا ایک ویڈیو بھی مقامی میڈیا نے جاری کیا ہے ، جس میں ٹینکر کے آس پاس لوگوں کی لاشیں بکھرے نظر آرہے ہیں ۔

      میئر اکی سوئر نے فیس بک پر کہا ’’مجھے ویلنگٹن میں بائی بوریہہ روڈ پر دھماکے کی خبر سن کر دکھ ہوا ہے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایندھن لے جانے والا ٹرک دوسرے ٹرک سے ٹکرا گیا۔ افواہیں ہیں کہ 100 سے زیادہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع ابھی موصول نہیں ہوئی ہے‘‘۔ میئر نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ میئر نے دھماکے میں مارے گئے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

      سیرا لیون کی نیشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر محمد لمرانے باہ نے بتایا کہ دھماکہ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں ، جن میں سے کچھ کی حالت سنگین ہے ۔ باہ نے کہا کہ افسران نے زخمیوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا ہے ۔

      سیرا کی قومی ڈایزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے سربراہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک بھیانک واقعہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقہ میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔ فی الحال کتنے لوگ اس واقعہ میں متاثر ہوئے ہیں اس کا واضح جواب دینا مشکل ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: