உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    37 سال کے شخص نے اپنے پرائیویٹ پارٹ میں ڈالا 2 میٹر لمبا دھاگا! وجہ جان کر ڈاکٹروں کے بھی اڑ گئے ہوش

    37 سال کے شخص نے اپنے پرائیویٹ پارٹ میں ڈالا 2 میٹر لمبا دھاگا! وجہ جان کر ڈاکٹروں کے بھی اڑ گئے ہوش ۔ علامتی تصویر ۔

    37 سال کے شخص نے اپنے پرائیویٹ پارٹ میں ڈالا 2 میٹر لمبا دھاگا! وجہ جان کر ڈاکٹروں کے بھی اڑ گئے ہوش ۔ علامتی تصویر ۔

    37 سال کے ایک شخص نے کافی حیران کن حرکت کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق شخص ورجن اور غیر شادی شدہ (Virgin-Unmarried man insert thread in private part) ہے اور اپنی ذہنی طور پر بیمار ماں کے ساتھ رہتا ہے ۔

    • Share this:
      لوگ اکثر انجانے میں یا پھر جان بوجھ کر جسم کے ساتھ کچھ ایسا کرجاتے ہیں ، جس سے ان کو کافی نقصان ہوتا ہے ۔ لوگ اپنے جسم کے بارے میں دھیان نہیں دیتے ہیں اور عجیب و غریب حرکتیں کرنے سے ان پر برا اثر پڑتا ہے ۔ حال ہی میں انڈونیشیا  (Indonesia man insert thread) کے ایک شخص نے بھی اپنے جسم کے ساتھ ایسا ہی کھلواڑ کیا ۔ اس نے اپنے پرائیویٹ پارٹ میں ایک دو میٹر لمبا نائیلون کا دھاگا  (Man insert thread in private part) ڈال لیا ۔ ایسا کرنے کے پیچھے کی وجہ سے انتہائی حیران کن ہے ۔

      ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق 37 سال کے ایک شخص نے کافی حیران کن حرکت کی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق شخص ورجن اور غیر شادی شدہ  (Virgin-Unmarried man insert thread in private part) ہے اور اپنی ذہنی طور پر بیمار ماں کے ساتھ رہتا ہے ۔ ایڈلٹ ویڈیوز دیکھنے کے دوران اس نے اپنے پرائیویٹ میں دو میٹر لبما دھاگا ڈال لیا ، جس کے بعد اس کی مشکلات بڑھ گئیں ۔

      اس شخص نے بتایا کہ وہ تنہائی میں گزارے پرائیویٹ لمحات کو مزید بہتر بنانے کیلئے اور عضو خاص کو زیادہ وقت تک ایریکٹ رکھنے کیلئے ایسا کررہا تھا ۔ اس کو اچانک بے انتہا درد ہوا تب اس کو اسپتال لے جایا گیا ۔ اس نے ہچکچاہٹ کی وجہ سے ڈاکٹروں وک سچ نہیں بتایا اور کہا کہ اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہورہا ہے ۔ جب ڈاکٹروں نے چیک کیا تو پایا کہ پرائیویٹ پارٹ میں دو میٹر لمبا دھاگا  (Man insert 2 meter long thread in private part)  ڈالا ہوا ہے ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ دھاگے کو نکالنے کے کچھ دنوں کے بعد شخص پوری طرح سے ٹھیک ہو پایا ۔

      ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ جسم کے اندر اس طرح بھی ڈالنا دراصل ایک قسم کا پاگل پن یا سائیکریٹیک معاملہ ہے ۔
      ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ جسم کے اندر اس طرح بھی ڈالنا دراصل ایک قسم کا پاگل پن یا سائیکریٹیک معاملہ ہے ۔


      رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے بتایا کہ شخص نے چونکہ کبھی تعلقات نہیں بنائے اور نہ ہی کسی طرح کے ایڈلٹ ایکٹ کا تجربہ کیا ، اس لئے اس کے اندر ان چیزوں کے تئیں ایسا رویہ تھا ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کو آبسیسیو کنپلسیو ڈس آرڈر ہے ۔ ریسرچ کے مطابق جو مریض اپنے پرائیویٹ پارٹ میں باہری چیزیں ڈالتے ہیں ، اہیں یو ٹی آئی ، اسٹون یا پھر کینسر جیسی پریشانیاں بھی ہوسکتی ہیں ۔ پرائیویٹ پارٹ کے اندر کچھ بھی ڈالنے سے زخم ہوسکتا ہے اور زیادہ خون بہنے کی وجہ سے انسان کی جان بھی خطرے میں آسکتی ہے ۔ ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ جسم کے اندر اس طرح بھی ڈالنا دراصل ایک قسم کا پاگل پن یا سائیکریٹیک معاملہ ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: