உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گہری ہوئی دوستی! ترکی اب پاکستان کے لئے بنا رہا ہے جنگی جہاز

    ترکی اب پاکستان کے لئے بنا رہا ہے جنگی جہاز

    ترکی اب پاکستان کے لئے بنا رہا ہے جنگی جہاز

    پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی گہری ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے والا ترکی اب اس کیلئے جنگی جہاز بنا رہا ہے۔

    • Share this:
      پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی گہری ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے والا ترکی اب اس کیلئے جنگی جہاز بنا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے اس کیلئے 2018 میں ایک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے۔
      پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز کی خبر کے مطابق، ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اتوار کو ایک پروگرام میں یہ اعلان کیا۔ خبر میں ترکی کے صدر کے حوالے سے کہا گیا ہے، 'میں امید کرتا ہوں کہ ترکی کے ذریعے مہیا کرائے جا رہے اس جنگی جہاز سے پاکستان کو فائدہ ہوگا'۔
      پاکستانی بحریہ نے ترکی سے چارجنگی جہاز کی خریداری کیلئے جولائی 2018 میں ایک سمجھوتہ کیا تھا۔ اردغان کے مطابق ترکی دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو قومی صلاحیت کا استعمال کرکے جنگی جہاز سازی، ڈیزائن اور رکھ۔ رکھاؤ کر سکتا ہے۔
      گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اپنے خطاب کے دوران کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔ ترکی واحد مسلم ملک ہے جس نے جموں۔کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے پر ہندستان کی تنقید کی اور پاکستان کی حمایت کی۔ ترکی کے صدر نے کہا تھا کہ کشمیر کے موجودہ حالات سے کشیدگی اور بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کیلئے ترکی کے صدر کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
      وزیر اعظم نریندر مودی کا سخت پیغام
      ہندستان نے سفارتی سطح پر ترکی کو جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔ اس کی جھلک گزشتہ ہفتے نیو یارک میں دیکھنے کو ملی۔ پی ایم مودی نے سائپرس کے صدر نکوس کے ساتھ ملاقات کی۔ اس کے علاوہ پی ایم مودی نے آرمینیا کے پی ایم نکول پاشیان کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ کی۔ بات چیت کے ذریعے انہوں نے ترکی کو یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر اس نے پاکستان کا ساتھ دیا تو پھر انہیں اس کا جواب مل سکتا ہے۔

      ترکی پر دباؤ

      تاریخ گواہ رہی ہے کہ ترکی کے ساتھ سائپرس اور آرمینیا کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں۔ 20 ویں صدی کی ابتدا میں آرمینیا نے ترکی پر بڑی تعداد میں اپنے شہریوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ سال 1974  میں ترکی نے سائپرس پر چڑھائی کی تھی۔ لہذا دونوں ممالک میں ایک جزیرے پر قبضہ کرنے کے بارے میں تنازعہ ہے۔

       
      First published: