اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے‘ آج دنیا بھر میں عالمی یوم اردو کا اہتمام، آخرکیوں منایاجاتاہے عالمی یوم اردو؟

    9 نومبر کو عالمی یوم اردو منایا جاتا ہے۔

    9 نومبر کو عالمی یوم اردو منایا جاتا ہے۔

    ہندوستان کی دیگر زبانوں کے مقابلہ میں اردو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملک کے تقریباً ہر کونے میں بولی جاتی ہے اور اس کے جاننے والے دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہیں۔ عالمی یوم اردو ہر سال 9 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اردو شیڈول زبان میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Delhi | Hyderabad | Qatar
    • Share this:
    آج دنیا بھر میں علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877 ۔ وفات 21 اپریل 1938) کے یوم پیدائش کے موقع پر دنیا بھر میں عالمی یوم اردو (World Urdu Day) منایا جارہا ہے۔ ہندوستان کی دیگر زبانوں کے مقابلہ میں اردو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملک کے تقریباً ہر کونے میں بولی جاتی ہے اور اس کے جاننے والے دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہیں۔

    عالمی یوم اردو ہر سال 9 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ ہندوستان میں اردو شیڈول زبان میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر دہلی میں واقع آل انڈیا اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن 9 نومبر کو عالمی یوم اردو مناتی ہے۔ جس کے تحت ایک سالانہ مجلہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔

    عالمی یوم اردو کی تاریخ:

    عالمی یوم اردو سر محمد اقبال کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ وہ 9 نومبر 1877 سیالکوٹ کو پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں ان کا کام 20 ویں صدی کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ معروف قلم کار عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ کے مطابق ’’9 نومبر بیسویں صدی کے معروف مفکر، مایہ ناز فلسفی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے۔ اس دن بہ طور خاص اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کے روشن کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کو اب یوم اردو بھی کہا جانے لگا ہے؛ کیوں کہ اقبال مرحوم نے اپنی زندہ و پائندہ شاعری کے ذریعہ دنیائے اردو میں ایسا انقلاب برپا کیا اورایسی روح پھونکی جسے محبان اردو کبھی فراموش نہیں کرسکتے‘‘۔


    علامہ اقبال کی مشہور نظم ’’يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘

    يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
    جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

    پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
    پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے


    محروم تماشا کو پھر ديدئہ بينا دے
    ديکھا ہے جو کچھ ميں نے اوروں کو بھي دکھلا دے

    بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
    اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

    پيدا دل ويراں ميں پھر شورش محشر کر
    اس محمل خالي کو پھر شاہد ليلا دے

    اس دور کي ظلمت ميں ہر قلب پريشاں کو
    وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے

    رفعت ميں مقاصد کو ہمدوش ثريا کر
    خودداري ساحل دے، آزادي دريا دے


    بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
    سينوں ميں اجالا کر، دل صورت مينا دے

    احساس عنايت کر آثار مصيبت کا
    امروز کي شورش ميں انديشہء فردا دے

    ميں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
    تاثير کا سائل ہوں ، محتاج کو ، داتا دے!

    علامہ اقبال کے مشہور اشعار:

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

    *******

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    *******

    مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

    *******

    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    *******

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    *******

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: