ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایئرپورٹ کے باتھ روم میں لڑکی نے دیا بچے کو جنم ، پھر منہ میں ٹوائلٹ پیپر ڈال کر کیا ایسا خوفناک کام

سال 2019 میں 23 سالہ کویوری کتائی نے اچانک ٹوکیو ہوائی اڈے پر ایک بچے کو جنم دیدیا تھا ۔ کویوری نے ہوائی اڈے کے باتھ روم میں بچہ کو جنم دیا ۔

  • Share this:
ایئرپورٹ کے باتھ روم میں لڑکی نے دیا بچے کو جنم ، پھر منہ میں ٹوائلٹ پیپر ڈال کر کیا ایسا خوفناک کام
ایئرپورٹ کے باتھ روم میں لڑکی نے دیا بچے کو جنم ، پھر منہ میں ٹوائلٹ پیپر ڈال کر کیا ایسا خوفناک کام ۔ علامتی تصویر ۔

کہا جاتا ہے کہ خاتون کیلئے اس کے بچے دنیا میں سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں ۔ ماں ان کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرتی ہیں ۔ تاہم کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آتے ہیں جن کو جاننے کے بعد لوگ حیران رہ جاتے ہیں ۔ معاملہ جاننے کے بعد لوگوں کے لیے یہ یقین کرپانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی ایک ماں ایسی حرکت کر سکتی ہے۔ اسی طرح کا ایک کیس 2019 میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں سامنے آیا تھا۔


2019 میں 23 سالہ کویوری کتائی نے اچانک ٹوکیو ہوائی اڈے پر ایک بچے کو جنم دیدیا تھا ۔ کویوری نے ہوائی اڈے کے باتھ روم میں بچہ کو جنم دیا ۔ لیکن وہ یہ بچہ نہیں چاہتی تھی، اس لئے اس نے اپنے حمل کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا تھا ۔ اس ناپسندیدہ حمل سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اس نے اسقاط حمل کی بھی کوشش کی ، لیکن جاپان کے قانون کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکی ۔ تاہم اس نے بچے کو جنم دینے کے بعد ائیر پورٹ کے باتھ روم میں ہی مار ڈالا تھا ۔


سال 2019 میں پیش آنے والے اس واقعہ کی سماعت شروع ہوگئی ہے ۔ عدالت میں کویوری نے بتایا کہ کوئی بھی اس کے حمل سے واقف نہیں تھا ۔ جب تک اس کو پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے ، 22 ہفتے ہو چکے تھے ۔ جاپان میں 22 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل نہیں کیا جا سکتا ہے ، جس کی وجہ سے اس کو بچے کو رکھنا پڑا ۔ تاہم اس دوران اس نے کوئی بھی دوا نہیں لی ۔ اچانک ہوائی اڈے پر اس کو درد زہ شروع ہوا اور اس کے بعد اس نے باتھ روم میں بچہ کو جنم دیدیا ۔ لیکن ڈر کی وجہ سے اس نے بچہ کو مارڈالا ۔




کویوری کا موقف سننے کے بعد عدالت اپنا فیصلہ جلد سنا سکتی ہے ۔ کویوری نے اپنے بچے کے منہ میں ٹوائلٹ پیپر ٹھوس کر اس کی جان لی تھی ۔ اس جرم کیلئے اس کو عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے ۔ یہاں تک کہ اگر عدالت اسے معاف کر دیتی ہے ، تب بھی اسے کم از کم پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس کو سزائے موت نہیں ملے گی ۔ دراصل جاپان میں سزائے موت صرف ایک سے زیادہ قتل کرنے پر ہی دی جاتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 15, 2021 08:09 PM IST