உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    باربی ڈال جیسا پرائیویٹ پارٹ چاہتی تھی خاتون! مگر ہوگئی ایسی غلطی ، جان کر رہ جائیں گے حیران

    باربی ڈال جیسا پرائیویٹ پارٹ چاہتی تھی خاتون! مگر ہوگئی ایسی غلطی ، جان کر رہ جائیں گے حیران (Instagram/@caseyberos)

    باربی ڈال جیسا پرائیویٹ پارٹ چاہتی تھی خاتون! مگر ہوگئی ایسی غلطی ، جان کر رہ جائیں گے حیران (Instagram/@caseyberos)

    کیسی بیروس اپنے پرائیویٹ پارٹ ( وجائنا) کی باہری ساخت سے خوش نہیں تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ اس میں تبدیلی کی جائے ۔ وہ باربی ڈال کے وجائنا کی طرح اپنا پرائیویٹ پارٹ بنانا چاپتی تھیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چھوٹے بچوں کو گڈے ۔ گڑیا سے اتنا پیار ہوتا ہے کہ وہ ان جیسا نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر چھوٹی لڑکیاں اپنی پسندیدہ باربی ڈال کی طرح کپڑے پہننا چاہتی ہیں یا ان کی طرح میک اپ کرنا چاہتی ہیں ۔ لیکن ایک خاتون نے حد پار کر دی اور باربی ڈال کے کپڑے یا میک اپ کی نقل نہیں کی بلکہ وہ گڑیا کے پرائیویٹ پارٹ کی نقل کرنے کی کوشش کی ، مگر یہ نقل اس کو کافی بھاری پڑ گئی ۔

      ڈیلی اسٹار کی ایک رپورٹ کے مطابق رائٹر اور جرنلسٹ کیسی بیروس اپنے پرائیویٹ پارٹ ( وجائنا) کی باہری ساخت سے خوش نہیں تھی ۔ وہ چاہتی تھی کہ اس میں تبدیلی کی جائے ۔ وہ باربی ڈال کے وجائنا کی طرح اپنا پرائیویٹ پارٹ بنانا چاپتی تھیں ۔ جب وہ 20ویں سال میں تھی تو اس نے ڈیزائنر وجائناز سے متعلق ایک ڈاکومینٹری دیکھی تھی ، جس میں سرجری کے ذریعہ پرائیویٹ پارٹ میں سدھار کے بارے میں بتایا گیا تھا ۔

      میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کافی چھوٹی عمر سے ہی ان کو ایسا لگتا تھا کہ اگر وہ اپنے پرائیویٹ پارٹ کی بناوٹ کو بدل لیں گی تو وہ خود اعتمادی محسوس کرنے لگیں گی اور اپنے بارے میں ہچکچاہٹ اور شرمندگی کا احساس ختم ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ سے انہوں نے لیبیا پلاسٹی یعنی پرائیویٹ پارٹ کی پلاسٹک سرجری کروانے کا فیصلہ کیا ۔ جب ان کی سرجری ہوئی تو ان کو سمجھ آیا کہ ان سے بڑی غلطی ہوگئی اور اب وہ افسوس کررہی ہیں ۔

      انہوں نے کہا کہ سرجری سے پہلے انہوں نے ایڈلٹ ویڈیوز نہیں دیکھے تھے ، جس سے انہیں یہ پتہ چل پاتا کہ خواتین کے پرائیویٹ پارٹ ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا ان کا تھا ۔ وہ صرف ایک گڑیا کے پرائیویٹ پارٹ کی طرح اپنے پرائیویٹ پارٹ کو بنوانا چاہتی تھیں ۔ سرجری کے بعد ان کا پرائیویٹ پارٹ کافی چھوٹا ہوگیا اور اب ان کی سینسیٹیویٹی بھی ختم ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا تو بالکل بھی نہیں چاہتی تھیں اور اب سرجری سے وہ ناخوش ہیں ۔

      وہیں ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ ان دنوں لڑکیوں میں اپنے پرائیویٹ پارٹ کو سدھارنے کیلئے پلاسٹک سرجری کی کافی ہوڑ مچی ہوئی ہے ، مگر ایسا کرنے کی کوئی طبی ضرورت نہیں ہے ۔ آسٹریلیا میں رہنے والی کیسی اب چاہتی ہیں کہ خواتین اپنے جسم کو ویسے ہی اپنائیں جیسا ہے ۔ انہیں اب اپنے پرائیویٹ پارٹ کو دیکھ کر کافی شرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ اب وہ اپنے بچوں کو بھی یہ سکھاتی ہیں کہ انہیں خود پر بھروسہ رکھنا چاپئے کہ وہ جیسے ہیں ویسے ہی اچھے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: