اپنا ضلع منتخب کریں۔

    چین کا سعودی عرب کی طرف جھکاؤ؟ شی جن پنگ کا آج سے تین روزہ دورہ سعودی عرب، چین ۔ عرب سربراہی اجلاس میں ہوگی شرکت

    شی جن پنگ کی چین عرب سربراہی اجلاس میں شرکت

    شی جن پنگ کی چین عرب سربراہی اجلاس میں شرکت

    چین اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پرانی شراکت داری کو تازہ ترین دھچکا اکتوبر میں اس وقت لگا جب اوپیک پلس آئل بلاک نے یومیہ 20 لاکھ بیرل پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا، اس پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ اقدام یوکرین کی جنگ پر روس کے ساتھ اتحاد کے مترادف ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Saudi Arabia
    • Share this:
      چینی صدر شی جن پنگ آج بروز بدھ سے سعودی عرب کا تین روزہ دورہ کریں گے، جہاں وہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کے شاہ سے ملاقات کریں گے۔ سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے بتایا کہ شی بدھ کو پہنچیں گے، کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے یہ ان کا تیسرا بیرون ملک اور 2016 کے بعد سے ان کا پہلا سعودی عرب کا دورہ ہے۔

      دنیا کی نمبر دو معیشت کے سربراہ شی جن پنگ چین-عرب سربراہی اجلاس (China-Arab summit) میں بھی شرکت کریں گے جس میں 14 عرب سربراہان مملکت کی شرکت متوقع ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کریں گے، جس سے خطے کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو تقویت ملے گی۔ بلاک کے سربراہ نایف الحجراف نے جی سی سی-چینی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین جی سی سی ممالک کے تجارتی شراکت داروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

      بہت گہرے تعلقات کی عکاسی:

      حکومت کے قریبی ایک سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ شی کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں بہت گہرے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندہ کے طور پر چین ایک اہم شراکت دار ہے اور فوجی تعلقات مضبوطی سے ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      گزشتہ ہفتے سعودی حکومت نے درست تاریخوں کی تصدیق کیے بغیر سربراہی اجلاس کی کوریج کے لیے صحافیوں کے لیے رجسٹریشن فارم بھیجے۔ شی جن پنگ کا دورہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان توانائی کی پالیسی سے لے کر علاقائی سلامتی اور انسانی حقوق تک کے مسائل پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے ساتھ بھی ہے۔

      چین اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پرانی شراکت داری کو تازہ ترین دھچکا اکتوبر میں اس وقت لگا جب اوپیک پلس آئل بلاک نے یومیہ 20 لاکھ بیرل پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا، اس پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ اقدام یوکرین کی جنگ پر روس کے ساتھ اتحاد کے مترادف ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: