ہوم » نیوز » عالمی منظر

ISIS کیلئے یزیدی لڑکیوں کو بناتا تھا جنسی غلام، 5سال کی بچی کے ساتھ کی یہ حیوانیت، اڑ جائیں گے ہوش

اس شخص کی اہلیہ پر بھی ایک یزیدی لڑکی(Yazidi genocide) کے قتل کا مقدمہ پہلے سے ہی میونکھ کی ایک عدالت میں چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ اسمگلنگ کیلئے لائی گئی ایک لڑکی کی 5 سال کی بیٹی کو ان دونوں نے پینے کا پانی نہیں دیا اور اس کی موت ہوگئی۔

  • Share this:
ISIS کیلئے یزیدی لڑکیوں کو بناتا تھا جنسی غلام، 5سال کی بچی کے ساتھ کی یہ حیوانیت، اڑ جائیں گے ہوش
اس شخص کی اہلیہ پر بھی ایک یزیدی لڑکی(Yazidi genocide) کے قتل کا مقدمہ پہلے سے ہی میونکھ کی ایک عدالت میں چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ اسمگلنگ کیلئے لائی گئی ایک لڑکی کی 5 سال کی بیٹی کو ان دونوں نے پینے کا پانی نہیں دیا اور اس کی موت ہوگئی۔

جرمنی (Germany) کی ایک عدالت میں عراق (Iraq) کے ایک شخص پر دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (ISIS) کیلئے یزیدی لڑکیوں کی انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال او قتل کا مقدمہ شروع ہوا ہے۔ اس شخص کی اہلیہ پر بھی ایک یزیدی لڑکی(Yazidi genocide) کے قتل کا مقدمہ پہلے سے ہی میونکھ کی ایک عدالت میں چل رہا ہے۔ الزام ہے کہ اسمگلنگ کیلئے لائی گئی ایک لڑکی کی 5 سال کی بیٹی کو ان دونوں نے پینے کا پانی نہیں دیا اور اس کی موت ہوگئی۔

الجزیرہ کے مطابق اس عراقی شخص کا نام ال۔جے(بدلا ہوا) بتایا جاتا ہے اور اس کی عمر 27 سال ہے۔ اس پر فرینک فرنٹ کی ایک کورٹ میں انسانیت کے خلاف جرم، جنگی جرم، انسانی اسمگلنگ اور قتل جیسے سنگین الزام لگائے گئے ہیں۔ سال 2015 میں ال۔جے اور اس کی جرمن بیوی نے ایک یزیدی لڑکی کو کئی دنوں تک نہ صرف اذیتیں دیں بلکہ پینے تک کیلئے پانی بھی نہیں دیا۔ جس کے سبب اس کی پانچ سال کی معصوم بچی کی موت ہوگئی۔ یہ دونوں اس دوران عراق کے شہر فلوجاہ میں رہ رہے تھے۔ یہ کیس یزیدی ایتھنک گروپ کے خلاف کئے گئے جرم کے خلاف دنیا میں چلایا گیا پہلا معاملہ ہے۔ ماری گئی لڑکی رانیہ کی ماں نورہ نے بھی کورٹ میں ان دونوں کے خلاف گواہی دی ہے۔

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (ISIS) سے جڑا تھا ملزم

جرمنی کی کورٹ میں داخل چارچ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ال۔جے نے سال 2013 میں (ISIS) جوائن کیا اور پکڑے جانے تک اس دہشت گرد تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز رہا، ال۔جے سیریا کے شہر رقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا کام دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ عراق اور ترکی میں بھی اس دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (ISIS) کیلئے کئی کام کرچکا ہے۔

وہیں بچی کی ماں نورہ نے کورٹ میں بتایا کہ ال۔جے اور اس کی بیوی یزیدی لڑکیوں کو (ISIS) کے پاس پہنچاتے تھے جہاں انہیں سیکس سلیو بناکر رکھا جاتا تھا۔ نورہ کو بھی ان دونوں نے یرغمال بناکر رکھاتھا اور اس کے ساتھ اس کی 5 سالہ بیٹی بھی تھی۔ ان دونوں کو نہ صرف مارا پیٹا جاتا تھا بلکہ کئی موقع پر ان کی آبروریزی بھی کی گئی۔ سال 2015 کی گرمیوں میں ال۔جے کی بیوی نے کسی بات سے ناراض ہوکر 5 سال کی رانیہ کو چین کے ذریعے کھڑکی سے باندھ دیا اور اس کو کھانا تو کیا پینے کیلئے پانی تک نہیں دیا جس کی وجہ سے اس معصوم کی موت ہوگئی۔

صدام حسین کے بعد اسلامک اسٹیٹ نے بھی ڈھائے ظلم۔
وہیں 2014 میں عراق اور سیریا میں آئی ایس کی دہشت گردی بڑھنے کے ساتھ ہی وہاں رہنے والے یزیدی لوگوں پر مسلسل ظل ڈھائے گئے۔ جہاں ایک طرف یزیدی مردوں کو دہشت گرد موت کے گھات اتار دیتے تھے وہیں خواتین کو اغوا، یرغمال بناکر انہیں سیکس سلیو بناکررکھا جاتا ہے اور طرح۔طرح سے ظلم کئے جاتے ہیں۔
یزیدی ایک ایسا معاشرہ ہے جو شمالی عراق میں رہتا ہے جو کرد زبان بولتا ہے۔ اگست 2014 میں (ISIS) نے شمالی عراق کے یزیدی علاقے شنگلے پر حملہ کیا۔ اس کے بعد 400،000 سے زیادہ لوگوں کو دوہوک ، اربیل اور کردستان کے علاقوں میں بھاگنا پڑا تھا۔ اس دوران لڑکیوں اور خواتین کا ایک بڑی تعداد ریپ کیا گیا تھا۔ ہزاروں یزیدی خواتین موت کے خوف سے سنجار کے پہاڑوں پر جا بسیں لیکن 3000 سے زیادہ یزیدی لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے کے لئے دہشت گردوں نے اغوا کرلیا۔
کئی لڑکیوں نے سنائی ہے اپنی کہانی۔۔
آئی ایس (ISIS) کی سیکس سلیو رہیں لیلا تالو نے سال 2018 میں بتایا (ISIS) نے الگ۔الگ ممالک میں 9 مرتبہ مجھے خرید۔ بیچ کر میرا جنسی استحصال کیا۔ لیلا نے یہ بھی بتایا کہ کیسے ان جیسی اور بھی یزیدی خواتین کی انٹرنیٹ پر خریدوفروخت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا 'پہلے ہمارے بارے میں جانکاری انٹرمیٹ پر اپلوڈ کر دی جاتی تھی جس کے بعد کوئی بھی اپنی پسند سے بہت ہی کم قیمت پر ہمیں خرید سکتا تھا۔
لیلا نے بتایا کہ 2 سال 8مہینے 9 دن کی مدت میں میں انہیں کئی مرتبہ سیکس سلیو (جنسی غلام) بناکر تقریبا 9 مرتبہ مختلف ممالک میںبیچا گیا۔ اس میں عراق، بغداد اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی طرح ہی بڑی تعداد میں خواتین ہیں جن کی زندگی آئی ایس (ISIS) چنگل میں پھنس کر جہنم بی ہوئی ہے۔ بتادیں کہ سال 2016 میں (ISIS) کے قبضے والے عراق کے موصول میں دہشت گردوں نے 19 یزیدی کردش خواتین کو پنجتے میں ڈال کر زندہ جلادیاتھا۔ ان خواتین نے سیکس سلیو بننے سے انکار کردیا تھا۔
First published: Apr 26, 2020 11:04 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading