اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عالم اسلام کےمعروف مبلغ ذاکرنائیک فیفاورلڈ کپ کے درمیان پہنچ گئےقطر ،کریں گےمذہبی تقاریر

    Youtube Video

    ہندوستان میں مفرور قرار دیے گئے ذاکر نائیک ورلڈ کپ کے دوران مذہبی تقریر کرنے قطر پہنچ گئےہیں۔شیخ ذاکر نائیک ورلڈ کپ کے دوران قطر میں ہیں اور وہ پورے ورلڈ کپ میں کئی"مذہبی لیکچر دیں گے

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • India
    • Share this:
      منی لانڈرنگ، اشتعال انگیز تقاریر اوردہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے مبینہ ملزم، عالم اسلام کے معروف مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک فیفا ورلڈ کپ کے درمیان قطر پہنچ گئے ہیں۔ ہندوستان میں مفرور قراردیے گئے ذاکر نائیک ورلڈ کپ کے دوران مذہبی تقریر کرنے قطر پہنچ گئےہیں۔شیخ ذاکر نائیک ورلڈ کپ کے دوران قطر میں ہیں اور وہ پورے ورلڈکپ میں کئی"مذہبی لیکچر دیں گے،" قطر کے سرکاری اسپورٹس چینل الکاس کے ٹیلی ویژن پریزینٹرالہاجری نے ٹویٹ کرکے اس بات کی جانکاری دی ہے۔

      ڈاکٹر ذاکر نائیک، کی تقاریر پحث کے بعد وہ 1990 کی دہائی سے ہندوستان میں سرخیوں میں آئے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق سال 2000 کے آغاز میں ان کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیاپر وائرل ہوئیں، جن میں ذاکر نائیک نے کئی قابل اعتراض تقاریر کیں۔ اس کے بعد ذاکر پر اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذاہب کے خلاف اکسانے کا الزام لگا۔ ذاکر نائیک پر IRF کے بعد 2016 میں بھارت نے ذاکر نائیک کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پابندی لگا دی۔ 2017 سے ذاکر نائیک کو مفرور قراردیاگیاہے اور  ملائیشیا میں رہ رہے ہیں۔ ذاکر نائیک ملائیشیا کے مستقل شہری ہیں۔ لیکن 'قومی سلامتی' کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر 2020 سے ملائیشیا کے اندر تقریر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جولائی2016 میں، ذاکر نائیک ہندوستان سے روانہ ہوئے تھے۔جس کے ایک سال بعد، ہندوستان نے ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کردیا۔ تب ذاکر نائیک نے دعوٰی کیا تھا کہ وہ این آر آئی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      سب سے پہلے ذاکر نائیک کا نام پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب 2016 میں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد گرفتار کیے گئےدہشت گردوں نے بتایا کہ وہ ذاکر کی تقریروں سے متاثر تھے۔ ڈھاکہ میں ہونے والے اس دھماکے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد ممبئی پولیس کی اسپیشل برانچ نےبھارت میں ذاکر کے خلاف کیس کی تفتیش کی تھی۔ بعد میں این آئی اے نے کیس کی جانچ کی۔

      ابتدائی تحقیقات کے بعد ذاکر اور آئی آر ایف پر پابندی لگا دی گئی۔ ان پر اپنی تقاریرکے ذریعے مذاہب کے درمیان تفرت پھیلانے کا الزام تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی تقریرسن کر مسلم نوجوان دہشت گرد بن رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک رپورٹ بھی سامنےنے 400-500 مردوں اور عورتوں کو دوسرا مذہب تبدیل کرتے ہوئے دیکھ گیاہے۔

      اس کے بعد ذاکر نائیک کے خلاف مہاراشٹر اور کیرالہ میں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ساتھ ہی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ آئی آر ایف کو بیرون ملک سے بھیفنڈز مل رہے ہیں۔ ذاکر کے پاکستان اور یہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات بھی منظر عام پر آئے۔ ہم آپ کو بتادیں کہ ذاکر نائیک کے خلاف ہندوستان میں کئی مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: