جموں وکشمیرکے حالات آج بھی معمول پرنہیں، عام شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ حکومت کو وہاں کے لوگوں کواعتماد میں لینا چاہئےاوران سے گفتگوکرنی چاہئے۔

Nov 06, 2019 10:37 PM IST | Updated on: Nov 06, 2019 10:39 PM IST
جموں وکشمیرکے حالات آج بھی معمول پرنہیں، عام شہریوں کوشدید مشکلات کا سامنا: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے جموں وکشمیر کے حالات، این آرسی اور موب لنچنگ پربات کی۔ فائل فوٹو

مولانا سید ارشد مدنی نے کشمیرکے معاملےمیں جمعیۃ علماء ہند کےموقف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا کہ حکومت کووہاں کےلوگوں کواعتماد میں لینا چاہئےاوران سےگفتگوکرنی چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ آج تک جموں و کشمیرکے حالات معمول پرنہیں آئے ہیں، عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسکول وکالج، روزگارسب ہیں، سینکڑوں جوانوں کوجیل میں قید کردیا گیا ہےاورکسی کوان کی خبرنہیں ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کےصدرمولانا سید ارشد مدنی آج یہاں بابری مسجد - رام جنم بھومی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سےقبل پریس کانفرنس کوخطاب کررہے تھے۔ انہوں نےکہا کہ مسائل صرف گفت و شنید سے حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہےاورہمیں امید ہے کہ کشمیریوں کوانصاف ملے گا۔ انہوں نےکہا کہ دنیا کی عظیم طاقت بھی طاقت کے بل پرمسئلہ حل نہیں کر سکی ہے‘ امریکہ اور روس کوافغان سے راہ فراراختیارکرنے پرمجبور ہونا پڑا ہے۔


تعصب کی بنیاد پرنہ ہو این آرسی


Loading...

پریس کانفرنس میں مولانا ارشد مدنی نےاین آر سی کے معاملے پرکہا کہ این آرسی کے ہم مخالف نہیں ہیں، لیکن یہ کام تعصب کی بنیاد پرنہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کا این آرسی اورشہریت سے متعلق دیئےگئے بیان کوآئین ہند کی دفعہ (14اور15) کے منافی سمجھتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ کسی کوبھی مذہبی بنیاد پر شہریت نہیں دی جاسکتی۔ کسی بھی ملک میں شہریت صرف ضابطے، صحیح دستاویزات اور قانون کے مطابق دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ کے بیان سے ظاہرہوتا ہےکہ اس کا نشانہ صرف مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندومسلم اتحاد کا بڑا مسئلہ ہےاورجمعیۃ علماء ہند اپنے قیام سے ہی اس سلسلےمیں کوشاں رہی ہےاورآج اس نےاس نظریہ کوتبدیل نہیں کیا ہے۔ اس ضمن میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت جی سے ملاقات ہوئی ہے، ہندومسلم اتحاد کے سلسلےمیں ہم لوگ آگے بڑھ رہے ہیں۔


موب لنچنگ پرقانون نہ بنانے کا ہوگا سخت انجام

مولانا ارشد مدنی نےملک میں جاری موب لنچنگ کےمعاملے پرکہا کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت کے وہاں موب لنچنگ کے خلاف قانون نہیں بنائےگئے ہیں، اس کے برعکس جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے، وہاں قانون بن گئے یا بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پرالزام لگایا کہ ان کے مطالبات کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے موب لنچنگ پرروک نہیں لگائی تو ہندوؤں اورمسلمانوں کے دونوں کےلئے بہت نقصان دہ ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے ماب لنچنگ کی درپردہ حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ماب لنچنگ پرکوئی قانون نہ بنانے کا مطلب ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کااشارہ دے دیا گیا۔ مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ اگرملک میں قانون کوہاتھ میں لینےکی اجازت دی گئی تونہ توہندو بچیں گےاورنہ ہی مسلمان محفوظ رہیں گے۔

Loading...