உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: اسپتال میں 13 سالہ بچے کی Death، اہل خانہ نے ڈاکٹروں پر لگائے سنگین الزام

    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے میرگنڈ پٹن کے کاک پورہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ پرویز حسین میر نامی نوجوان کی جے وی سی  میڈیکل کالج بمنہ سری نگر میں ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہوئی۔

    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے میرگنڈ پٹن کے کاک پورہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ پرویز حسین میر نامی نوجوان کی جے وی سی  میڈیکل کالج بمنہ سری نگر میں ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہوئی۔

    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے میرگنڈ پٹن کے کاک پورہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ پرویز حسین میر نامی نوجوان کی جے وی سی  میڈیکل کالج بمنہ سری نگر میں ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے بچے کی موت واقع ہوئی۔

    • Share this:
    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے میرگنڈ پٹن کے کاک پورہ سے تعلق رکھنے والے تیرہ سالہ پرویز حسین میر نامی نوجوان کی جے وی سی  میڈیکل کالج بمنہ سری نگر میں ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ نوجوان کی موت پر اہل خانہ نے ڈاکٹروں پر لاپرواہی کا الزام لگایا۔ اہل خانہ نے ڈاکٹروں کی لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹروں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے بچے کی طبی تشخیص میں کافی دیر لگائی۔ جس کی وجہ سے تیرہ سالہ نوجوان کی موت ہوئی۔

    بچے کے گھر والوں نے بتایا کہ ان کے بچے کے پیٹ میں درد پہلے گھر میں جب درد محسوس ہوئی تو انہوں نے فوراً جے وی سی بمنہ سرینگر پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا علاج کرکے انہیں گھر واپس لینے کا مشورہ دیا،گھر والوں کاکہناہے  جب انہوں نے ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق اپنے بچے کو گھر واپس پہنچایا تو گھر میں انہیں رات کے دوران پھر سے درد شروع ہوئی اور یہ دیکھتے ہوئے انہوں نے پھر سے اسے سرینگر بمنہ کے جے وی سی کے ایمرجنسی میں پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے بچے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھا بچے کے گھر والوں نے بتایا کہ مختصر مدت میں ڈاکٹروں نے مریض کو آٹھ انجکشن لگائے۔ اور اصرار کرنے کے باوجود بھی ڈاکٹروں نے بعد میں کوئی توجہ نہیں دی۔ اہل خانہ نے مزید بتایا کہ جب کافی وقت سے ان کا بچہ درد سے کرارہے تھے اسی دوران اچانک ان کے جسم میں سستی اور ٹھنڈی ظاہر ہونی لگی۔

    ڈاکٹروں کو اس وقت بھی آگاہ کیا تاہم انہوں نے کہاکہ یہ ٹھیک ہیں جب ان کے بچے کی گردن ایک طرف گرگئی تب ڈاکٹروں نے فوراً اسے صورہ میڈیکل انسٹچوٹ لے جانے کو کہاکہ جوں ہی اسے باہر نکالا اس وقت وہ دم توڑ بیٹھےتھے۔ اہل خانہ نے ڈاکٹروں کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے محکمہ ہیلتھ کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔اہل خانہ نے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ادھر میڈیکل سپریڈنٹ جے وی سی نے کہا کہ اس لڑکے کو ہنگامی بنیادوں پر علاج فراہم کیا گیا لیکن بدقسمتی سے اس کی جان نہ بچ سکی۔

    انہوں نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ اگر غفلت پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔جب تیرہ سالہ پرویز حسین میر کی لاش ان کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی۔انہیں بعد میں آہوں ،سسکیوں اور پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیاگیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: