ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : بارہمولہ میں پٹن کے گنڈبل میں 14 سالہ بچہ نے کی خودکشی ، علاقہ میں غم کی لہر

گنڈ بل کے چودہ سالہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنے ہی گھر میں کچھ زہریلی شے کھا لی ۔ اس کے فوراً بعد اس کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال پٹن پہنچایا گیا ، جہاں سے اس کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔ تاہم وہ اسپتال میں ہی دم توڑ بیٹھا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : بارہمولہ میں پٹن کے گنڈبل میں 14 سالہ بچہ نے کی خودکشی ، علاقہ میں غم کی لہر
جموں و کشمیر : بارہمولہ میں پٹن کے گنڈبل میں 14 سالہ بچہ نے کی خودکشی ، علاقہ میں غم کی لہر

وادی کشمیر میں خودکشی کا بڑھتا رجحان قابل تشویش ہے ۔ یہاں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ خودکشی کے واقعات نے سماجی اور سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ جہاں نوجوان اوربڑے عمر کے افراد اس یہ انتہائی قدم اٹھاتے پائے جاتے ہیں ، تو وہیں اب کم عمر بچوں میں خودکشی کے رجحان نے ہر ایک کوچونکا دیا ہے ۔ تازہ معاملہ میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے پٹن کے گنڈ بل میں آٹھویں جماعت کے طالب علم منظور احمد میر نے زہریلی شے کھا کر اپنی زندگی کا اپنے ہاتھوں خاتمہ کرلیا ۔


بتایا جاتا ہے کہ گنڈ بل کے چودہ سالہ آٹھویں جماعت کے طالب  علم نے مبینہ طور پر اپنے ہی گھر میں کچھ زہریلی شے کھا لی ۔ اس کے فوراً بعد اس کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال پٹن پہنچایا گیا ، جہاں سے اس کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔ تاہم وہ اسپتال میں ہی دم توڑ بیٹھا ۔ لاش کو پٹن اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لواحقین کے حوالے  کردیا گیا ۔ پولیس نے اس معاملہ کو لیکر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے ۔


خودکشی کے واقعات نے سماجی اور سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔
خودکشی کے واقعات نے سماجی اور سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔


غور طلب بات یہ ہے کہ اتنی کم عمری میں اس بچہ کے ساتھ ایسا کیا گزرا کہ اس نے اپنی زندگی کا اپنے ہی ہاتھوں خاتمہ کرلیا ۔  مختلف ماہرین کا کہناہے کہ خودکشی کرنے کا سبب ایک جذباتی مسئلہ کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے ، جو انسان کو کافی عرصے سے پریشان کر رہا ہوتا ہے اور اس کو پھر موت کی آغوش میں چلے جانے پر مجبور کرتا ہے ۔ گنڈ بل کے آٹھویں جماعت کے طالب علم کی خودکشی کا راز بھی جاننا انتہائی ضروری ہے ۔

حکومت کی توجہ بھی اس سنگین مسئلہ کی طرف مبذول ہونی چاہے اور اس مسئلہ سے بچنے کے لئے نوجوانوں اور چھوٹے طالب علموں میں بیداری مہم چلائی جانی چاہئے اور ساتھ ہی بچوں کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لئے رہنما خطوط تیار کئے جانے چاہئیں ۔ والدین اور گھروالوں کو بچوں کی جسمانی اور ذہنی دباؤ کے وجوہات کا مشاہدہ کرنا چاہے ۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے ماحول میں نوجوانوں میں ڈپریشن کے واقعات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ ان کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 15, 2020 05:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading