ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے 145روز بعد کارگل میں انٹرنیٹ بحال

اگست میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے سے پہلے جموں وکشمیرمیں حکومت نے بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کوتعینات کیا تھا۔ حالانکہ اب نیم فوجی دستوں کی 72 کمپنیوں کوہتانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے 145روز بعد کارگل میں انٹرنیٹ بحال
جموں وکشمیر میں کارگل سے 145روز بعد انٹرنیٹ کی پابندی ہٹالی گئی۔

سری نگر: لداخ کےکارگل ضلع میں 145 دنوں کے بعد ایک بارپھرموبائل انٹرنیٹ خدمات جمعہ کوبحال کردی گئیں۔ افسران نےبتایا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو آئین کےآرٹیکل 370 کے بیشترالتزام کوختم کرنےکےبعد سے یہاں پرانٹرنیٹ خدمات کو پوری طرح سے بند کردیا گیا تھا۔ کارگل کےافسران نے بتایا کہ گزشتہ چارماہ میں کوئی ناگہانی واقعات نہیں رونما ہوا ہےاورحالات پوری طرح سے معمول پرآچکے ہیں۔ اسے دیکھتےہوئے انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی ہے۔


افسران نےبتایا کہ مقامی مذہبی لیڈروں نےلوگوں سےاپیل کی ہےکہ وہ اس سہولت کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ یہاں براڈ بینڈ سہولت پہلےسے ہی شروع کردی گئی تھیں۔ واضح رہےکہ کچھ دن پہلے ہی جموں وکشمیرپرمرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اگست میں آرٹیکل 370 ہٹنےسے پہلے وہاں پرحکومت نے بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کوتعینات کیا تھا۔ اب پانچ ماہ بعد حالات میں بہتری کودیکھتے ہوئے نیم فوجی دستوں کی 72 کمپنیوں کوہٹانےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں 24 کمپنیاں سی آرپی ایف کی ہیں۔


 فائل فوٹو


جولائی کےآخرمیں بھیجی گئی تھی بڑی تعداد میں فوج

واضح رہےکہ اس سال جولائی کےآخرمیں حکومت نے جموں وکشمیرمیں سی آرپی ایف کی 50 کمپنیاں، بی ایس ایف کی 10 کمپنیاں، ایس ایس بی کی 30 اور آئی ٹی بی پی کی 10 کمپنیاں تعینات کرنےکا فیصلہ لیا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے25 جولائی کوفوری طورپر مرکزی مسلح پولیس فورسزکی 100 کمپنیوں کوتعینات کرنےکا حکم دیا تھا۔ ایک کمپنی میں تقریباً 100 اہلکارہوتے ہیں۔ دواگست کوجموں وکشمیرمیں 28 ہزاراضافی جوانوں کی تعیناتی کا حکم دیا گیا تھا۔
First published: Dec 27, 2019 05:27 PM IST