உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: جنگ بندی معاہدہ پر پابندی سے عمل جاری، سرحدی علاقوں میں خوشی کا ماحول، زراعتی سرگرمیاں شباب پر

    J&K News: جنگ بندی معاہدہ پر پابندی سے عمل جاری، سرحدی علاقوں میں خوشی کا ماحول، زراعتی سرگرمیاں شباب پر

    J&K News: جنگ بندی معاہدہ پر پابندی سے عمل جاری، سرحدی علاقوں میں خوشی کا ماحول، زراعتی سرگرمیاں شباب پر

    Jammu and Kashmir: جموں و کشمیر کے سرد اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں آج کل دھان کی فصل لگانے کا عمل جاری ہے۔ میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ گولہ باری سے متاثر رہنے والے سرحدی ضلع پونچھ کے کسان بھی کھیتی باڑی میں مصروف عمل ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : ہندوستان اور پاکستان کے مابین  گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جنگ بندی معاہدے پر پابندی سے عمل کیا جارہا ہے۔ اس اقدام سے  جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں رہائش پذیر عوام کو پاکستان کی بلا اشتعال گولہ باری سے نجات ملی ہے۔ ماضی کے برعکس سرحدی علاقوں کے لوگ بلا خوف و خطر ایک پر سکون ماحول میں روزمرہ کی زندگی بسر کرنے لگے ہیں۔ جموں و کشمیر کے سرد اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں  آج کل دھان کی فصل لگانے کا عمل جاری ہے۔ میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ گولہ باری سے متاثر رہنے والے سرحدی ضلع پونچھ  کے کسان بھی کھیتی باڑی میں مصروف عمل ہیں۔ گزشتہ پندرہ ماہ سے اس علاقے میں پاکستان کی بلا اشتعال گولہ باری بند ہوجانے سے اس علاقے کے لوگ بنا کسی خوف و خطر کے دھان کی پنیری لگانے میں جُٹ گئے ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کشمیر میں سال رواں اب تک 29 غیر ملکی دہشت گردوں سمیت 100 ہلاک


    گولہ باری رُک جانے سے لوگوں کی خوشی کا احساس اس وقت ہوا ، جب  نیوز 18 کی ٹیم نے پونچھ ضلع کے سرحدی علاقوں کے کسانوں کو  ڈھول نگاڑوں کے ساتھ اپنے کھیتوں میں دھان کی پنیری لگاتے ہوئے پایا۔ ڈھول کی تھاپوں پر تھرکتے کسان اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھیتوں میں زمینداری کرتے نظر آئے۔ ان کسانوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے سے قبل ان علاقوں میں ان کا رہنا محال ہوچکا تھا، کیونکہ پاکستان اکثر و بیشتر گولہ باری کرکے شہری آبادی کو بھی نشانہ بنا تا تھا ۔ تاہم پچھلے پندرہ ماہ سے علاقے میں ماحول پر سکون ہے۔

    ڈھول کی تھاپوں پر تھرکتے کسان اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھیتوں میں زمینداری کرتے نظر آئے۔
    ڈھول کی تھاپوں پر تھرکتے کسان اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھیتوں میں زمینداری کرتے نظر آئے۔


    اجوٹ پونچھ کے کسان کاکہ حُسین نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: پہلے ہمیں بہت پریشانی ہوتی تھی کیونکہ گولہ باری کا خطرہ ہمیشہ سر پر منڈ لاتا رہتا تھا۔ جنگ بندی کے بعد ماحول بہتر ہوچکا ہے اور ہم بلا کسی خوف کے کھیتوں میں کام کر پارہے ہیں ۔ گُلپور کے مُشتاق احمد نامی کسان نے کہا کہ گولہ باری ختم ہوجانے کے بعد اب وہ کسی بھی وقت اپنے کھیتوں کا رُخ کر سکتے ہیں ۔ گولہ باری رُک جانے سے اب ہم صُبح ، شام ، دن رات کسی بھی وقت اپنے کھیتوں میں بے خوف ہوکر کام کر رہے ہیں ۔ اب کنٹرول لائن پر سکون ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ گولہ باری بند ہوجانے سے ہماری کھیتی باڑی اچھے سے چل رہی ہے اور ہم انتہائی خوش ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں وکشمیر میں انکاونٹر کے تین واقعات میں لشکر کے پانچ دہشت گرد ڈھیر


    کر ماڑہ پونچھ کے محمد عارف نامی کسان نے کہا کہ کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال گولہ باری رُک جانے کے بعد ان کے لئے اچھے دن آئے ہیں ۔  گولہ باری ہونے سے ہمیں ، ہمارے بچوں اور دوسرے اہلہ خانہ کے لئے پریشانی ہوتی تھی اور ہر وقت موت کا ڈر  ستاتا رہتا تھا، لیکن اب سرحدوں پر سکون کے حالات پیدا ہوجانے سے ہمارے لئے اچھے دن آئے ہیں، ہمارے بچے معمول کے مطابق سکول جارہے ہیں، کسان اپنے کھیتوں میں بلا کسی ڈر کے کام کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جنگ بندی معاہدے پر پابندی سے عمل جاری رہے تاکہ ہم لوگوں کو  معمول کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملتا رہے ۔

    سُہیل احمد نامی ایک نوجوان نے کہا کہ گزشتہ پندرہ ماہ سے علاقے میں سکون بھرے حالات قائم ہونے سے اب اس علاقے میں امن کا ماحول لگ رہا ہے۔ ہم  امن پسند لوگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ علاقے میں پائیدار امن قائیم رہے ۔ جنگ بندی معاہدے پر ہندوستان کی جانب سے بھی عمل کیا جارہا ہے تاہم کنٹرول لائن اور سرحد پر فوج اور بی ایس ایف لگاتار چوکس ہیں کیونکہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سرحد کے اس پار بھیجنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اب ڈرون کے ذریعہ ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کی کاروئیوں میں مصروف ہے ۔ فوج اور بی ایس ایف کی چوکسی کی ہی وجہ سے پاکستان کی ایسی کئی کوششون کو ماضی قریب میں ناکام بنا یا جاچکا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: