உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: بھدرواہ میں 150 بھیڑیں پراسرار بیماری سے ہلاک، خانہ بدوش آبادی میں خوف و ہراس

    جموں وکشمیر کے بھدرواہ علاقے میں بستی پنچایت کے مکینوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں خاص طور پر خانہ بدوش بکر والوں میں گزشتہ 3 دنوں میں درجنوں بھیڑوں اور بکریوں کی پراسرار موت کے بعد خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا۔

    جموں وکشمیر کے بھدرواہ علاقے میں بستی پنچایت کے مکینوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں خاص طور پر خانہ بدوش بکر والوں میں گزشتہ 3 دنوں میں درجنوں بھیڑوں اور بکریوں کی پراسرار موت کے بعد خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا۔

    جموں وکشمیر کے بھدرواہ علاقے میں بستی پنچایت کے مکینوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں خاص طور پر خانہ بدوش بکر والوں میں گزشتہ 3 دنوں میں درجنوں بھیڑوں اور بکریوں کی پراسرار موت کے بعد خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا۔

    • Share this:
      سائر حُسین

      بھدرواہ: جموں وکشمیر کے بھدرواہ علاقے میں بستی پنچایت کے مکینوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں خاص طور پر خانہ بدوش بکر والوں میں گزشتہ 3 دنوں میں درجنوں بھیڑوں اور بکریوں کی پراسرار موت کے بعد خوف و ہراس کا ماحول پھیل گیا۔

      خانہ بدوش چرواہوں (بکروال) جو کہ حال ہی میں اپنے مویشیوں کے ساتھ موسم گرما میں چرنے کے لئے اونچے گھاس کے میدانوں میں منتقل ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مویشی ایک پُراسرار بیماری میں مبتلا ہو گئے، جو بظاہر اسہال کی طرح نظر آتی ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود 3 دن میں 150 بھیڑیں اور بکریاں مرگئیں۔ اس کے علاوہ درجنوں دیگر جانور بھی اس پراسرار بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

      اپنے مویشیوں کے مزید نقصان کے خوف سے گھبرائے ہوئے خانہ بدوشوں نے علاقے کے سرپنچ اور محکمہ sheep husbandry کے محکمہ کے افسران سے رابطہ کیا، لیکن ان کے مطابق محکمہ سے کوئی بھی ان کی مدد کے لئے نہیں آیا بلکہ انہوں نے انہیں ڈائریا کی دوائیں دینے کا مشورہ دیا۔

      خانہ بدوش چرواہوں (بکروال) جو کہ حال ہی میں اپنے مویشیوں کے ساتھ موسم گرما میں چرنے کے لئے اونچے گھاس کے میدانوں میں منتقل ہوئے ہیں۔
      خانہ بدوش چرواہوں (بکروال) جو کہ حال ہی میں اپنے مویشیوں کے ساتھ موسم گرما میں چرنے کے لئے اونچے گھاس کے میدانوں میں منتقل ہوئے ہیں۔


      محمد فرید ایک بکر وال نے بتایا، ”ہمارے سر پرنہ چھت ہے نہ اپنی زمین اور نہ ہی کوئی کاروبار ہے۔ ہماری زندگی کا گزربسر انہی بھیڑوں پرمنحصر ہے۔ گزشتہ رات میری 12 بھیڑیں مرگئیں اور 30 بھیڑیں ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ میرا بہت نقصان ہوگیا ہے، جس کی بھر پائی شاید میں آنے والے 10 سالوں میں بھی نہیں کرسکتا۔ ہم پہلے سے ہی مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا اتنا نقصان ہونے کے بعد بھی متعلقہ محکمہ نے ہماری بھیڑوں کو دیکھنے کے لئے ایک بھی ڈاکٹر بھیجنا ضروری نہیں سمجھا“۔

      جلال نامی بکر وال نے کہا، ”میری اور میرے ساتھیوں کی تین دن میں 100 سے زیادہ بھیڑیں ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہونے سے ان کی موت ہوگئی، جب ہم نے علاقے کے سرپنچ کو اس کے بارے میں بتایا تو انہوں نے بنا وقت ضائع کئے انتظامیہ تک یہ بات پہنچائی اور انتظامیہ نے بھی بنا وقت گنوائے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھیجی، لیکن جو ڈاکٹروں کی ٹیم آئی انہوں نے کسی بھی بھیڑ کا معائنہ نہیں کیا بلکہ ہمیں مشورہ دیا کہ انہیں Diahirea کی دوائی دیں۔ “

      یہ بھی پڑھیں۔

      یٰسین ملک سے ہمدردی کیوں؟ اسلامی ممالک کی تنظیم کے بیان پر ہندوستان نے ظاہر کیا اعتراض

      جلال بکر وال نے مزید بتایا کہ جو دوائیاں دینے کا مشورہ دیا گیا وہ ہم پہلے ہی دے چکے ہیں، لیکن بھیڑوں کے مرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ابھی بھی دو سے تین سو بھیڑیں مرنے کی کگار پہ ہیں۔ میں انتظامیہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ ایسا مذاق کیوں کیا جارہا ہے؟ ہم اپیل کرتے ہیں کہ انتظامیہ اس مسلئے کو سنجیدگی سے لے اور یہاں پر ایک سنجیدہ ڈاکٹروں کی ٹیم جلد از جلد بھیجیں۔

      یاسر وانی سرپنچ نالٹھی بستی نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ سے ان کے لئے فوری مالی مدد کی گزارش کی ہے۔ جب اس مسلئے کو لے کر اے ڈی سی بھدرواہ دل میر چودھری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”میرے نوٹس میں یہ بات آنے کے بعد میں نے فوری طور پر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں کے لئے روانہ کردی ہے“۔

      بھدرواہ سے سائر حُسین کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: