உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and kashmir: سال 2015 میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد ہوئے فوت، 7 سال بعد بھی نہیں ملا انصاف

    سال 2015 میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد ہوئے ہلاک، 7 سال بعد بھی نہیں ملا انصاف

    سال 2015 میں ایک ہی خاندان کے 16 افراد ہوئے ہلاک، 7 سال بعد بھی نہیں ملا انصاف

    سال 2015 میں بڈگام کے دور دراز علاقے لیڈن میں قدرتی آفت آئی اور زمین کھسکنے کی وجہ سے چار مکان مٹی کے نیچے دب گئے اور ایک ہی خاندان کے 16 افراد فوت ہوگئے۔ اس وقت کی سرکار نے متاثرہ افراد سے وعدے کئے تھے کہ ان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔ مگرآج 7 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ لوگ سڑک پر بنے شڈ میں اپنا گزارا کر رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Badgam, India
    • Share this:
      عابد حسین

      بڈگام: جموں وکشمیر کے بڈگام کے دور دراز علاقے لیڈن میں سال 2015 میں قدرتی آفت آئی اور زمین کھسکنے کی وجہ سے چار مکان مٹی کے نیچے دب گئے اور ایک ہی خاندان کے 16 افراد فوت ہوگئے۔ اس وقت کی سرکار نے متاثرہ افراد سے وعدے کئے تھے کہ ان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔ مگرآج 7 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ لوگ سڑک پر بنے شڈ میں اپنا گزارا کر رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لعل الدین ہجام، شبیر احمد ہجام اور غلام حسن ہجام کا اپنا گھر تھا، جہاں سہولت تھی۔ مگراب کچھ نہیں ہے سوائے سڑک پر بنا ایک ٹین کا شیڈ جہاں یہ اپنا گزارا کر رہے ہیں۔ سڑک، گرمی ہو یا سردی یہ لوگ اپنی زندگی اس ٹین کے بنے شڈ میں گزار رہے ہیں۔ یہاں کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔

      دراصل 29 مارچ 2015 میں قدرتی آفت کی وجہ سے ان لوگوں نے اپنا سب کچھ کھویا۔ اس وقت زمین کھسک گئی اور چار مکان دب گئے اور تب سے یہ لوگ اسی شڈ میں رہ رہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی سرکار نے ان کے ساتھ کئی وعدے کئے تھے مگر آج تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ شبیر احمد ہجام ایک نوجوان نے اپنے گھرسے سبھی افراد کھوئے اوران کے مطابق وہ آج تک در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اورکوئی مددگار نہیں ہے۔

      سرکار نے متاثرہ افراد سے وعدے کئے تھے کہ ان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔ مگرآج 7 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ لوگ سڑک پر بنے شڈ میں اپنا گزارا کر رہے ہیں۔
      سرکار نے متاثرہ افراد سے وعدے کئے تھے کہ ان کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔ مگرآج 7 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ لوگ سڑک پر بنے شڈ میں اپنا گزارا کر رہے ہیں۔


      شبیر احمد نے نیوز ایٹین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اپنی کہانی بیان کی۔ ان کے مطابق اس وقت کی سرکار نے بہت کچھ کہا تھا، مگر وہ صرف باتیں تھیں، حقیقت میں کچھ نہیں ہوا۔" ہم سے تو وعدہ کیا گیا تھا کہ نوکری ملے گی، گھر ملے گا، مگر آج تک کچھ نہیں ملا۔‘  شبیر احمد نے مزید کہا "انتظامیہ کے پاس جانے کے باوجود کوئی سننے والا نہیں ہے۔‘

      یہ بھی پڑھیں۔

      غلام نبی آزاد کی کانگریس پر تنقید، کہا- اندرا گاندھی کے وقت اسٹار رہا، اب پارٹی نے دو سال بٹھائے رکھا
      یہ بھی پڑھیں۔





      ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکار اور ضلع انتظامیہ تب یہاں آئی تھی اور نوکری، معاوضہ اور زمین کا پلاٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر پھر کوئی نہیں آیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکار نے تب کچھ رقم دی تھی، مگر اسے کچھ نہیں ہوا اور جو وعدہ تھا وہ وفا نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ وہ انتظامیہ کے دروازے گزشتہ سات برس سے کھٹکٹا رہے ہیں مگرکوئی نہیں سنتا۔

      لعل دین نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور رو پڑے۔ ان کاکہنا ہے کہ"ایک کے بعد ایک افسر آئے تھے تب، اس وقت کی سرکار آئی تھی، وزراء آئے تھے، مگر صرف دورے کئے اور ہمارا حال آج تک بے حال ہے، ہر کوئی دروازہ کھٹکھٹایا، مگر کسی نے نہیں سنی"۔ وہیں لعل دین کی زوجہ کا کہنا ہے کہ ٹین کے شڈ میں گزارا کرنا بہت مشکل ہے، کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا پاتے، کیونکہ سب خراب ہوجاتا ہے، اگر سرکار کہی ہے تو ہمارے ساتھ انصاف کرے۔ "ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ غریبوں کے لئے کوئی سرکارنہیں ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سے ایل جی انتظامیہ اور مودی سرکار سے اپیل کی کہ ان کی طرف توجہ دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کرے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: