உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیرمیں فوج کے زیر اہتمام آئی ٹی ایجوکیشن کورس میں بیس لڑکیوں کا انتخاب۔

    اس کورس میں کمپیوٹر کی مختلف مہارتیں جیسے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم، ایم ایس آفس اور انٹرنیٹ کا تصور حکومت کی اسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا مہم کے مطابق کیا گیا ہے۔

    اس کورس میں کمپیوٹر کی مختلف مہارتیں جیسے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم، ایم ایس آفس اور انٹرنیٹ کا تصور حکومت کی اسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا مہم کے مطابق کیا گیا ہے۔

    جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں ایک اہلکار نے منگل کو بتایا کہ، بیس کے قریب لڑکیوں نے فوج کی طرف سے پسماندہ طالب علموں کے لیے شروع کیا گیا ایک سال طویل کمپیوٹر ایپلیکیشن کورس شروع کیا ہے۔ اس کورس میں کمپیوٹر کی مختلف مہارتیں اور بنیادی معلومات شامل ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Ramban | Banihal
    • Share this:
      جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں ایک اہلکار نے منگل کو بتایا کہ،بیس کے قریب لڑکیوں نے فوج کی طرف سے پسماندہ طالب علموں کے لیے شروع کیا گیا ایک سال طویل کمپیوٹر ایپلیکیشن کورس شروع کیا ہے۔

      عہدیدار نے کہا کہ، اس کورس میں کمپیوٹر کی مختلف مہارتیں اور کمپیوٹر کی بنیادی معلومات شامل ہیں، بشمول ونڈوز آپریٹنگ سسٹم، ایم ایس آفس اور انٹرنیٹ کا تصور حکومت کی اسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا مہم کے مطابق کیا گیا ہے۔

      انہوں نے مزیدکہا ہے کہ، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سال بھر کے ایڈوانس ڈپلومہ ان کمپیوٹر ایپلیکیشن کورس سے گزرنے والی طالبات کو کمپیوٹر  کے بارے میں عملی اور نظریاتی دونوں طرح کی سمجھ حاصل ہوگی۔ اور تمام کامیاب طلبہ کو کورس پورا کرنے کے بعد ایڈوانس ڈپلومہ ان کمپیوٹر ایپلیکیشن کا سرٹیفیکیشن بھی دیا جائے گا۔

      یہ بھی پڈھیں:وادی کشمیر کی خواتین مشروم کی کاشت کرنے میں دکھا رہی ہیں دلچسپی، ضلع کولگام میں خواتین کو با اختیار بنانے پر زور

      سب ڈویژنل مجسٹریٹ بانہال، ظہیر عباس بھٹ نے کہا ہے کہ، کمپیوٹر کی تعلیم لڑکیوں کے لیے خود انحصاری کے راستے کھولے گی۔  انہوں نے فوجی افسران کے ساتھ تربیت حاصل کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی اور فوج کی کوششوں کو سراہا۔

      بھٹ نے مزید کہا ہے کہ، اس کورس کی تکمیل سے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی کھلیں گے جو طلباء کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہے۔
      Published by:Mudasir Mir
      First published: