உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں موجود 38 پاکستانی دہشت گردوں کی فہرست تیار، ہندوستانی فوج سکھائے گی سبق

    جموں وکشمیر میں موجود ہیں 38 پاکستانی دہشت گرد، سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس فہرست تیار، چن چن کر ٹھکانے لگانے کی تیاری

    جموں وکشمیر میں موجود ہیں 38 پاکستانی دہشت گرد، سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس فہرست تیار، چن چن کر ٹھکانے لگانے کی تیاری

    Security Forces Planning encounter of Pakistani terrorists: خفیہ رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں اس وقت 38 پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں۔ ان میں 27 لشکر طیبہ کے اور 11 جیش محمد کے دہشت گرد ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ ادہشت گرد وادی میں الگ الگ مقامات پر چھپے ہوسکتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) میں پاکستان (Pakistan) رخنہ اندازی کی تمام کوششیں کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیکورٹی ایجنسیوں (Security Agencies) نے ان پاکستانی دہشت گردوں کی فہرست تیار کرلی ہے، جو وادی میں موجود ہیں۔ یہ دہشت گرد کشمیر وادی میں نوجوانوں کو ورغلا کر اپنی تنظیموں میں شامل کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ دہشت گرد نوجوانوں کا مائنڈ واش کرکے سیکورٹی اہلکاروں اور عام لوگوں کا قتل کرنے میں مصروف ہوئے ہیں، لیکن اب سیکورٹی اہلکاروں نے لسٹ تیار کرکے ان کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔

      خفیہ رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں اس وقت 38 پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں۔ ان میں 27 لشکر طیبہ کے اور 11 جیش محمد کے دہشت گرد ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ ادہشت گرد وادی میں الگ الگ مقامات پر چھپے ہوسکتے ہیں۔ وہیں سے یہ واردات کو انجام بھی دے رہے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، 4 دہشت گرد سری نگر، تین کلگام، 10 پلوامہ، 10 بارہمولہ میں اور 11 دہشت گرد کشمیر کے الگ الگ علاقوں میں چھپے ہو سکتے ہیں۔

       خفیہ رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں اس وقت 38 پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں۔ ان میں 27 لشکر طیبہ کے اور 11 جیش محمد کے دہشت گرد ہیں۔

      خفیہ رپورٹ کے مطابق، کشمیر میں اس وقت 38 پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں۔ ان میں 27 لشکر طیبہ کے اور 11 جیش محمد کے دہشت گرد ہیں۔


      دہشت گردوں کو تلاش کرکے انکاونٹر کرنے کی تیاری

      اب ان دہشت گردوں کو تلاش کرکے انکاونٹر کرنے کی تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، دہشت گرد کشمیر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر میں دہشت گرد برہان وانی کے انکاونٹر کے بعد والے حالات کے لئے تیار ہوجائیں۔ گزشتہ برسوں کے اعدادوشمار پر غور کریں تو وادی میں نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سیکورٹی ایجنسیاں پوری طرح سے الرٹ ہیں اور اپنی پلاننگ کے تحت کارروائی کو انجام دینے میں مصروف ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      جموں وکشمیر: کلگام میں فوج کا بڑی مہم، حزب المجاہدین کے دو دہشت گرد ہلاک، آپریشن جاری


      پاکستان مسلسل اپنی حکمت عملی میں کر رہا ہے تبدیلی

      دراصل، کشمیر کے امن وامان کو خراب کرنے کے لئے پاکستان مسلسل اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر رہا ہے۔ پہلے اے کے -47، آئی ای ڈی اور ہینڈ گرینیڈ کے حملے سے سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن اب پستول سے ٹارگیٹ کلنگ کے حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے نشانے پر صرف سیکورٹی اہلکار ہی نہیں بلکہ ہندوستانی مزدور بھی ہیں، جو کشمیر میں چھوٹے چھوٹے روزگار کرکے یا مزدوری کرکے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: