ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس: جموں کشمیر میں 6,465 افراد نگرانی میں، 38 کیسوں کو مثبت پایا گیا

حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں اب تک 6,465 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Mar 30, 2020 12:09 AM IST
  • Share this:
کورونا وائرس: جموں کشمیر میں 6,465 افراد نگرانی میں، 38 کیسوں کو مثبت پایا گیا
کشمیر میں ادویات کی کوئی کمی نہیں ہے: جموں وکشمیر حکومت- علامتی تصویر

حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں اب تک 6,465 ایسے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یا تو بیرون ممالک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں سے 38 افراد کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 34 ایکٹو ہیں، دو صحت یاب ہوئے ہیں اور دو موت واقع ہوئی ہے۔

کورونا وائرس کے تعلق سے جاری میڈیا بلیٹن کے مطابق 3,260 افراد کو ہوم کورنٹائن جبکہ 307 افراد کو ہسپتال کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ جن افراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے اُن کی تعداد 2163 ہیں جبکہ 735 افراد نے 28 دن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 588 نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 542 نمونوں کی رپورٹ منفی پائی گئی ہے اور اب تک 38 افراد کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں جبکہ 8 کی روپورٹیں 29 مارچ 2020ء تک آنا باقی ہے

ایڈوائزری میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گبھرائیں نہیں اور حکومت نے کووڈ 19 کے مثبت معاملات کی نشاندہی کرنے اور ان کی ٹیسٹنگ کرنے کے لئے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ایڈوائزری میں پردھان منتری غریب کلیان پیکیج اور کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے والے ہیلتھ ورکروں کے لئے انشورنس سکیم کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے کمیونٹی ہیلتھ ورکروں سمیت تمام پبلک ہیلتھ کیئر ورکروں کو 90 دنوں تک 50 لاکھ روپے کا انشورنس کور فراہم کیا جائے گا جو براہِ راست کووڈ 19مریضوں کے رابطے میں ہوں اور ان کا علاج کر رہے ہوں اور جنہیں اس وبا سے خطرہ لاحق ہو۔


موجودہ صورتحال کے تناظر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کے عملے / ریٹائرڈ / رضاکار / لوکل اربن باڈیز / کنٹریکٹ / ڈیلی ویج / ایڈ ہاک / ریاستوں کی طرف سے لگائے گئے اوٹ سورسڈ عملہ / سینٹرل ہسپتال / سینٹرل / ریاستوں / یوٹیز کے خود مختار ہسپتال، ایمز اینڈ آئی این آئیز / مرکزی وزارتوں کے ہسپتالوں کے عملے کو بھی کووڈ 19سے متعلق ذمہ داریاں سونپی جاسکتی ہیں۔ ان کیسوں کو بھی انشورنس کے دائرے میں لایا جائے گا تاہم اس میں مرکزی سرکار کی میڈیکل اینڈ ہیلتھ اینڈ ایف ڈبلیو وزارت کی طرف سے اعداد و شمار دینا لازمی ہے۔

ایڈوائزری میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بیماری کا مقابلہ کرنے میں اپنا بھر پور تعاون دیں اور سفر سے متعلق تفاصیل رضاکارانہ طور پیش کریں اور سماجی دوری کو برقرار رکھیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ لاک ڈاون کو سنجیدگی سے لے کر اپنے گھروں میں ہی قیام کریں اور حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں تاکہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ اپنے کنبوں کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔

عوام کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور ہسپتالوں کا دورہ نہ کریں اور بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل آنے کی صورت میں ہی طبی صلاح لیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے ہیلپ لائین نمبرات پر صلاح و مشورہ کے لئے رابطہ قائم کریں۔دریں اثنا لوگ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرنے والی مفت ایمبولنس خدمات سے اپنی دہلیز پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس ایمبولنس خدمت کا ٹول فری نمبر ہے 108، حاملہ خواتین اور بیمار بچے ٹول فری نمبر 102 پر کال کر کے مفت ایمبونس خدمات سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
ایک دوسرے سے سماجی دوری بنائے رکھنے کی عمل آوری کے لئے ایڈوائزری میں کہا گیاہے کہ یہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے انتہائی لازمی ہے۔ اس کے لئے ہجوم سے دُور رہنا، اجتماعات سے اجتناب کرنا اور دوسرے لوگوں سے دُور ی بنائے رکھنا (6 فٹ یا 2 میٹر تک) شامل ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے: 'عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے احتراز کریں، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں اور اِجتماعات سے دوررہیں اور کھلے میں نہ تھوکیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ پانی او رصابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور کھانستے یا چھینکتے وقت مناسب احتیاط برتیں'۔
لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری سے سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ اُن پر کان دھریں۔
First published: Mar 30, 2020 12:09 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading