ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

انتہائی شرمناک! پراسرار طور پر کووڈ اسپتال میں تقریبا 40 آکسیجن سلینڈر غائب

ایک طرف محکمہ صحت اسپتالوں میں آکسیجنکا وافر مقدار دستیاب رکھنے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن دوسری طرف موت کے سوداگروں نے آکسیجن سلینڈر Oxygen Cylinders غائب کر دئے جو کہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔

  • Share this:
انتہائی شرمناک! پراسرار طور پر کووڈ اسپتال میں تقریبا 40 آکسیجن سلینڈر غائب
کووڈ اسپتال میں تقریبا 40 آکسیجن سلینڈر غائب

اگر چہ ایک طرف محکمہ صحت اسپتالوں میں آکسیجنکا وافر مقدار دستیاب رکھنے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن دوسری طرف موت کے سوداگروں نے آکسیجن سلینڈر Oxygen Cylinders غائب کر دئے جو کہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ سب ڈسٹرکٹ اسپتال کپواڑہ میں 40 آکسیجن سیلنڈروں کے غائب ہو جانے کے معاملہ کو لیکر اب تک تین ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ اس سلسلے میں دائریکٹر ہیلتھ سروسز نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور خود گذشتہ روز انہوں نے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے اسپتالی انتظامیہ کے ساتھ اس معاملے پر کھل کر بات چیت کی جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری کو لیکر انہیں باخبر کیا گیا۔


بتادیں کہ اس معاملے کو لیکر اب تک تین ملازمین کی معطلی کے احکامات صادر کئے گئے ہیں اور مزید کاروائی جاری ہے۔ واضح رہے کہ سب ڈسڑکٹ اسپتال کپواڑہ میں چالیس آکسیجن سیلنڈروں کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ ڈائریکٹر ہیتلھ سروسز نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا اس کےخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائےگی۔ اسپتال میں پراسرار طور پر آکسیجن سلینڈر کے غائب ہونے پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ۔




ڈپٹی کمشنر کپواڑہ نے چیف میڈیکل آفیسر کپواڑہ کو دو دن کے اندد رپوٹ تیار کرنے ہدیت دی۔اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کردی ۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو تلقین کی کہ کووڈ اسپتال میں زیر اعلاج مریضوں کیلئے صرف ایک تیماردار ہونے کی ہدایت جاری کردی ۔تاکہ کووڈ اسپتال میں لوگوں کی بھیڑ کم ہوسکے اور کووڈ ایس او پییز کا احترام کیا جاسکے ۔



ڈپٹی کمشنر امام الدین نے کووڈ اسپتال میں آکسیجن سلینڈر تیماداروں کے بجائے اسپتال میں تعینات ملازمین کو کووڈ مریضوں تک پہچانے کی ہدایت دی تاکہ آکسیجن سلینڈر اسپتال تک پہچانے میں گڑبڑ نہ ہو۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپتال میں پراسرار طور پر چالیس کے قریب آکسیجن سلینڈر غایب ہوچکے ہیں۔ ایک طرف کووڈ سے بچنے کیلئے کووڈ اسپتالوں میں آکسیجن کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے لیکن اسپتال میں موت کے سوداگر ابھی بھی موجود ہیں جنہوں نے کووڈ وبا Covid-19 pandemic میں بھی ایسی شرمناک حرکت کی جو کسی بڑے المیہ سے کم نہیں ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملازمین کے ساتھ سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل، میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 22, 2021 07:15 AM IST