உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     جموں و کشمیر میں کووڈ معاملات میں 45 فیصد کی کمی، اموات میں اضافہ

    جموں کشمیر میں اس بار کووڈ سے متاثر  افراد کو کم ہی اسپتالوں میں داخل کرنا پڑتا ہے لیکن آج 15 افراد کی موت درج کی گئی۔ ۔ پچھلے دو ہفتوں میں مسلسل کووڈ ٹیسٹ اور مثبت پائے گئے افراد کا فیصد اوسط چھ فیصد کے قریب رہا لیکن آج یہ گھٹ کر چار فیصد پر آگیا۔

    جموں کشمیر میں اس بار کووڈ سے متاثر  افراد کو کم ہی اسپتالوں میں داخل کرنا پڑتا ہے لیکن آج 15 افراد کی موت درج کی گئی۔ ۔ پچھلے دو ہفتوں میں مسلسل کووڈ ٹیسٹ اور مثبت پائے گئے افراد کا فیصد اوسط چھ فیصد کے قریب رہا لیکن آج یہ گھٹ کر چار فیصد پر آگیا۔

    جموں کشمیر میں اس بار کووڈ سے متاثر  افراد کو کم ہی اسپتالوں میں داخل کرنا پڑتا ہے لیکن آج 15 افراد کی موت درج کی گئی۔ ۔ پچھلے دو ہفتوں میں مسلسل کووڈ ٹیسٹ اور مثبت پائے گئے افراد کا فیصد اوسط چھ فیصد کے قریب رہا لیکن آج یہ گھٹ کر چار فیصد پر آگیا۔

    • Share this:
    جموں کشمیر میں دو ہفتہ بعد روانہ کووڈ معاملات میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی۔ سوموار یعنی اکتیس جنوری کو 2550 نئے کووڈ مثبت درج کئے گئے جو اس سے پہلے یعنی 30 جنوری کو 4615 درج کئے گئے تھے۔ کل ملا کے ایسا دو ہفتوں بعد ہوا جب روانہ کووڈ کیس چار ہزار سے کم پائے گئے۔ جہاں تک کووڈ مثبت فیصد کا تعلق ہے تو یہ گھٹ کر 6 فیصد سے 4 فیصد پر آگئی۔ پچھلے دو ہفتوں میں مسلسل کووڈ ٹیسٹ اور مثبت پائے گئے افراد کا فیصد اوسط چھ فیصد کے قریب رہا لیکن آج یہ گھٹ کر چار فیصد پر آگیا۔ ادھر کووڈ مریضوں کی اموات آج اس سال کی سب سے بڑی تعداد رہی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج 15 اموات ہوئی ہیں۔

    اس سے پہلے 25 اگست کو 14 افراد کووڈ کا شکار بنے تھے۔ اس سال تیسری لہر کے دوران ابھی تک 144 افراد کی جموں کشمیر میں موت واقع ہوئی ہے جس میں سے کشمیر صوبہ میں 58 اور جموں میں 86 افراد کی موت ہوئی۔ اسپتالوں میں زیادہ مریض بھارتی نہیں کرنے پڑتے ہیں اور کووڈ مریضوں کے لئے مخصوص 90 فیصد بستر خالی ہیں۔

    مجموعی طور جموں کشمیر میں اس وقت 36372 کووڈ کیس متحرک ہیں جن میں سے کشمیر میں 26793 اور جموں صوبہ میں 9579 کیس ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں کووڈ معاملوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہئے لیکن اس بار کووڈ وائرس کے اثرات کافی کم ہیں اور صرف کچھ افراد کو ہی اسپتال لے جانا پڑتا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: