ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر کی 48 سالہ خاتون کا کارنامہ، پالی تھین کو راکھ میں تبدیل کرنے کے تجربے پر ملا ایشیا بُک آف ریکارڈز کا خطاب

ناصرہ اختر نے پالی تھین کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے بہت پہلے سے کام شروع کیا۔ تاہم اس کے کام کی تب پذیرائی ہوئی، جب انہیں انڈیا بُک آف ریکارڈز، کلامز بُک آف ریکارڈز اور ان دنوں ایشیا بُک آف ریکارڈز کے اعزازت سے نوازا گیا۔

  • Share this:
کشمیر کی 48 سالہ خاتون کا کارنامہ، پالی تھین کو راکھ میں تبدیل کرنے کے تجربے پر ملا ایشیا بُک آف ریکارڈز کا خطاب
کشمیر کی 48 سالہ خاتون ناصرہ اختر کو ملا ایشیا بُک آف ریکارڈز کا خطاب

ظہور رضوی

کولگام: ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا، عمر اور تعلیم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کامیابی کی کہانی لکھی جا سکتی ہے۔ اس کا ثبوت کنی پورہ کولگام کی 48 سالہ خاتون نے پیش کیا ہے، سائنسی طرز پر پالی تھین کو راکھ میں تبدیل کر کے ایشیا بُک آف ریکارڈس میں اپنا نام درج کرا لیا۔  کنی پورہ کولگام کی 48 سالہ ناصرہ اختر کی کوششیں رنگ لائی، بیوہ ہونے کے علاوہ دو جواں سال بیٹوں کی ماں نے دنیا کے سامنے ایک نئی ایجاد پیش کی، جس میں پالی تھین کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا نسخہ بتایا گیا۔ ناصرہ اختر نے پالی تھین کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے بہت پہلے سے کام شروع کیا۔ تاہم اس کے کام کی تب پذیرائی ہوئی، جب انہیں انڈیا بُک آف ریکارڈز، کلامز بُک آف ریکارڈز اور ان دنوں ایشیا بُک آف ریکارڈز کے اعزازت سے نوازا گیا۔


ناصرہ اختر کے مطابق انہوں نے ایجادات کے اس سفر میں کافی مشکلات کا سامنا کیا۔ تاہم انہیں یقین تھا کہ ایک دن دنیا اس کے کام کی ستائش کرے گی۔ انہوں نے کئی اہم پلیٹ فارموں پر پالی تھین کو راکھ میں تبدیل کرنے کے لئے اپنے ہُنر کا مظاہرہ کیا، جس پر انہیں کافی ستیائش کی گئی۔ پالی تھین کے خاتمے اور اسے راکھ میں تبدیل کرنے کے لئے ناصرہ کو نہ صرف ایوارڈوں سے نوازا گیا بلکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تاہم کم پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے انہیں مزاحمت اور نکتہ چینی کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی ینورسٹیوں میں انہیں اپنی ایجاد کا مظاہرہ کرنے کو کہا گیا۔


ناصرہ اختر نے پالی تھین کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے بہت پہلے سے کام شروع کیا۔ تاہم اس کے کام کی تب پذیرائی ہوئی، جب انہیں انڈیا بُک آف ریکارڈز، کلامز بُک آف ریکارڈز اور ان دنوں ایشیا بُک آف ریکارڈز کے اعزازت سے نوازا گیا۔
ناصرہ اختر نے پالی تھین کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے بہت پہلے سے کام شروع کیا۔ تاہم اس کے کام کی تب پذیرائی ہوئی، جب انہیں انڈیا بُک آف ریکارڈز، کلامز بُک آف ریکارڈز اور ان دنوں ایشیا بُک آف ریکارڈز کے اعزازت سے نوازا گیا۔


تاہم ناصرہ نے ہمیشہ سے ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا اور اس میں وہ کامیاب ہوئی، ناصرہ کے مطابق ایوارڈ ہر کسی کو نہیں ملتا۔ تاہم اس میں محنت اور لگن لازمی ہے۔ ناصرہ کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے کاموں میں دلچسپی دکھا کر ہر موجد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے۔ ناصرہ کی بیٹاں اپنی والدہ کے کام سے خوش ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، ان کے مطابق ناصرہ نے کافی مصیبتوں کا سامنا کیا ہے اور تب جاکر اس مقام تک پہنچی ہے۔ ناصرہ کی چھوٹی بیٹی بُشریٰ ندا کا کہنا ہے کہ ان کی ماں ان کے لئے ایک مثال ہے اور وہ انہیں دیکھ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ بڑی بیٹی صائمہ صبور کا بھی یہی کہنا ہے اور ان کے مطابق ایسے تجربات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے اور سرکار اسے عملی جامہ پہنائے۔ ناصرہ اور ایسی خواتین اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور یقینی طور پر دنیا میں ان کے کام کی وجہ سے اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ تاہم موجودہ انتظامیہ اور سرکار پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنا کلیدی رول ادا کرے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 29, 2020 11:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading