உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں کتوں کی ہڑبونگ ہر سال 6 ہزار افراد کو کاٹتے ہیں کتے

    کتوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے ریبیز نام کی مہلک بیماری ہوجاتی ہے ۔ کشمیر میں زیادہ تر بچے کتوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ کتوں کے علاوہ بلیاں بھی ریبیز کا شکار ہوسکتی ہیں اور ان سے یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

    کتوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے ریبیز نام کی مہلک بیماری ہوجاتی ہے ۔ کشمیر میں زیادہ تر بچے کتوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ کتوں کے علاوہ بلیاں بھی ریبیز کا شکار ہوسکتی ہیں اور ان سے یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

    کتوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے ریبیز نام کی مہلک بیماری ہوجاتی ہے ۔ کشمیر میں زیادہ تر بچے کتوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ کتوں کے علاوہ بلیاں بھی ریبیز کا شکار ہوسکتی ہیں اور ان سے یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    سرینگر: کشمیر میں کتوں کی تعداد میں اضافہ کو لیکر لوگ پریشان ہیں۔سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں واقع کشمیر کے واحد اینٹی ریبیز کلنک میں پچھلے پانچ ماہ کے دوران 3300 افراد کتوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں کمیونٹی میڈیسن کے سربراہ پروفیسر محمد سلیم کہتے ہیں کہ اس کلینک میں سالانہ پانچ سے چھ ہزار لوگ علاج کے لئے آتے ہیں۔ ورلڈ ریبیز ڈے کے موقع پر آج جی ایم سی سرینگر میں طبی ماہرین نے کتوں کی تیزی سے بڑھ رہی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے کشمیر میں کتوں کی افزایش نسل ہورہی ہے اس کے حساب سے انسانوں کا کئی علاقوں میں جینا دو بھر ہو رہا ہے۔ ایک مقامی سماجی کارکن عمر بٹ خا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں بزرگ اور بچے باہر جانے سے بھی کتراتے ہیں۔ انھوں نے سرینگر میونسپل کارپوریشن پر ناکامی کا الزام لگایا۔

    عمر بٹ کہتے ہیں کہ کتوں کی نس بندی کا جو عمل تیز کیا جانا چاہئیے تھا وہ نا کے برابر ہو رہا ہے اور اس پر گلی گلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے نصب کئے گئے کچڑا دان کتوں کی افزائش کا مرکز بن رہے ہیں۔ میونسپل کمشنر سرینگر مانتے ہیں کہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا باعث ہے لیکن وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ میونسپل کارپوریشن سرینگر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ میونسپل کمشنر اطہر عامر کا کہنا ہے کہ شوہامہ میں قائم مرکز میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کے چلتے بہت ہی کم کتوں کی نس بندی ہوپارہی ہے لیکن انھوں نے ٹینگہ پورہ میں ایک اور مرکز قائم کیا ہے جو اگلے چند روز میں شروع کیا جائے گا۔


    اس کے علاوہ چھتر ہامہ علاقے میں ایک اور ایسا مرکز قایم کیا جائے گا جس کے شروع ہونے کے بعد روزانہ 160 کے قریب کتوں کی نس بندی ممکن ہوپائے گی اور اس سلسلے میں ایک نجی ادارے کی خدمات بھی لی جارہی ہیں لیکن کئی ماہرین اسے زبانی جمع خرچ سے تعبیر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے سرینگر میونسپل کارپوریشن پچھلے دو سال سے یہی دلیل دیتی رہی ہے لیکن عملی طور کچھ سامنے نہیں آرہا ہے۔

    گلمرگ میں ونٹر ٹورزم کے دوران سیاحوں کی بہتر سہولیات کے لئے تیاریاں شروع

    کشمیر وادی کے دیگر مقامات پر بھی سنیما ہال قائم کرنے کی ضرورت: کانگریس لیڈر


    سرینگر میں کتوں کی تعداد کو لیکر بھی ایس ایم سی سرینگر کنفیوژن کا شکار ہے۔ کچھ سال قبل ایم پی آئی ایل کے جواب میں کتوں کی تعداد پہلے 90 ہزار بتائی گئی لیکن اب یہ تعداد 60 ہزار بتائی جا رہی ہے۔ ایس ایم سی کے ویٹر رینری افسر ڈاکٹر توحید سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ کتوں کا کوئی شمار نہیں کیا گیا ہے اور یہ تعداد ایک اندازے کی بنیاد پر دی جارہی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: