ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں ملی ٹنٹوں کے خلاف حفاظتی عملے کی کاروائیاں مسلسل جاری

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک 78 ملی ٹنٹ ہلاک کئے گئے ہیں۔ جن میں سے سب سے زیادہ یعنی 39 کا تعلق لشکر طیعبہ نامی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں ملی ٹنٹوں کے خلاف حفاظتی عملے کی کاروائیاں مسلسل جاری
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک 78 ملی ٹنٹ ہلاک کئے گئے ہیں۔ جن میں سے سب سے زیادہ یعنی 39 کا تعلق لشکر طیعبہ نامی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔

جموں و کشمیر میں ملی ٹنٹوں کے خلاف حفاظتی عملے کی کاروائیاں لگاتار جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں مختلف آپریشنز کے دوران حفاظتی عملے کو بڑی کمیابیاں ہاتھ لگی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک 78 ملی ٹنٹ ہلاک کئے گئے ہیں۔ جن میں سے سب سے زیادہ یعنی 39 کا تعلق لشکر طیعبہ نامی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ دیگر مارے گئے ملی ٹنٹ حزب المجاہدین ، البدر، جیش محمد اور انصار غضوت ال ہند نامیف ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔، ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ماضی قریب میں حفاظتی عملے کو ملی ٹنٹوں کی موجودگی سے متعلق بروقت اطلاعات ملنے کی وجہ سے آئے دن جھڑپیں ہورہی ہیں جس دوران کئی اعلی دہشت گرد کمانڈروں سمیت دیگر ملی ٹنٹ ہلاکف کئے گئے۔ جموں و کشمیر کے سانبق ڈائیریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید کا کہنا ہے کہ ملی ٹنٹوں کے بارے میں بروقت اطلاعات زیادہ تر پولیس کو ملتی ہیں جسکے بعد انکے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ پولیس کے پاس جانکاری حاصل کرنے کا بہترین نظام ہے جسکے سبب ملی ٹنٹوں کی موجودگی سے متعلق لگ بھگ پچانوے فی صد جانکاری صیح وقت پو پولیس کو ملتی ہے۔

جنوبی کشمیر کے بعد وسطی اور شمالی کشمیر میں ملی ٹنٹوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایس پی وید نے کہا کہ دو ہزار سولہ میں حزب المجاہدین کے خود ساختہ چیف کمانڈر بُحران وانی کے مارے جانے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر آئی ایس آئی نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ، شوپیاں اور کولگام اضلاع پر اپنی توجع مرکوز کی اور وہاں کے نوجوانوں کو گمراہ کرکے ملی ٹنٹ تنظیموں میں شامل کرنے کی مزموم سازش کو انجام دیا۔


ان علاقوں میں کسی حد تک اپنے ناپاک عزائیم میں کامیاب ہونے کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے شمالی اور وسطی کشمیر میں بھی نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا اگرچہ وہ اس کوشش میں زیادہ کامیاب نہیں رہی تاہم وہ چند نوجوانوں کو مذہب کے نام پر اُکسا کر ملی ٹنٹ صفوں مکں شامل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ سرکار کی طرفسے علحیدگی پسند لیڈروں اور جماعتوں پر قانونی شکنجہ کسے جانے کے بعد اب آئی ایس آئی نے سماجی رابطہ سائیٹس کے زریع نوجوانوں کو ورگلانے کی اپنی حرکتیں مزید تیز کردی ہیں۔ سابق ڈی جی پی نے کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے کئی دیگر حصوں کے کچھ شدت پسند اور بنیاد پرست پاکستانی نوجوانوں کو ان سائیٹس کےزریع جھوٹا پروپگنڈا کرنے کا کام سونپ دیا ہے اور انہیں اس کام کے لئے باقاعدہ تنخواہیں دی جارہی ہیں۔ ایس پی وید نے کہا کہ یہ افراد بھارت میں پیش آنے والے کسی بھی جرم کو مذہبی رنگت دے کر نوجوانوں کو اسلام کے نام پر بھارت کے خلاف بھڑکانے کا کام کر رہے ہیں۔


افغانستان کے موجودہ حالات کا زکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ وہاں کے حالات کا جموں و کشمیر کی صورتحال پر کافی اثر پڑ سکتا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبات کے مکمل قبضے کے بعد جموں و کشمیر میں بین الا اقوامی سرحد اور کنٹرول لائین پر مزید چوکسی بڑھانے ،کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان طالبات کے دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے بھارت کی طرفسے سرحد اور کنٹرول لائین پر اعلی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہا ہے؎ جس سے پاکستان کی ایسی مزموم کوششوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 16, 2021 04:05 PM IST