உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ضلع رامبن میں 8 خودکشی، 18 سے 22 سال کے نوجوان ہوئے ذہنی تناؤ کا شکار

     سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ضلع رامبن میں 8 خودکشی، 18 سے 22 سال کے نوجوان ہوئے ذہنی تناؤ کا شکار

     سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ضلع رامبن میں 8 خودکشی، 18 سے 22 سال کے نوجوان ہوئے ذہنی تناؤ کا شکار

    جموں وکشمیر کے ضلع رامبن جو ایک پہاڑی ضلع ہے اس میں گزشتہ 15 دنوں میں 7 خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے افراد کی عمر 18 سے 22 سال کے درمیان کی ہے، جس پر سماج کے ہر طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    • Share this:
    رامبن: انسان کی زندگی میں جب بھی ذہنی تناؤ کا شکنجہ اعصاب پر اثر انداز ہونے لگتا ہے اور زندگی کی مشکلات سے ابھرنے کا کوئی راستہ نظر نہ آتا تو انسان مایوسی کے گہرے سایے تلے دفن ہو کر رہ جاتا ہے، تب وہ انسانی زندگی کے سب سے بزدلانہ قدم حرکت خود کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے اور آخر کار بہت سے کشمکش سے گزرنے کے بعد اپنی زندگی کا انجام خود طے کرتا ہے، جو زندگی کسی کی امانت ہوتی، لیکن پھر بھی وہ اس کا اکیلا فیصلہ کردیتا اور موت کو گلے لگا دیتا ہے، جس زندگی سے نہ جانے کتنی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اور نہ جانے کتنے خواب جڑے ہوتے ہیں، لیکن بس مایوسی اور ذہنی تناؤ کے جال میں پھنس کر انسان اس طرح کا قدم اٹھاتا ہے جو پوری قوم وسماج اور خاص طور سے والدین کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ کاش کہ وہ سمجھ پاتا کہ زندگی کی جنگ سے لڑنا اور تناؤ اور الجھن والی حالات سے ابھر کر زندہ دلی سے جینا ہی حقیقی معنوں میں اصل زندگی ہے۔ خودکشی کرنے والے شخص کے نقصان اور اس کے غم کا اندازہ اس کے لواحقین ہی حقیقی معنوں میں بتا سکتے ہیں کہ سماج اور خاندان اس قدم کے بعد کتنی تکلیف سے گزرتا ہے۔
    موجودہ دور میں جب پوری دنیا کورونا وباء کے بعد کے لاک ڈاون کی وجہ سے معومل زندگی رک گئی اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ تمام طرح کی سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد خاص کر نواجون طبقے پر اس کا گہرا اثر پڑا ہے، جس کے بعد سماج میں خود کشی کا نیا رحجان بڑھ چکا ہے۔ ماہرین نفسیات اور محکمہ صحت سے وابستہ افراد بھی اس ضمن میں تشویش میں مبتلا ہیں کہ قوم کا قیمتی اثاثی نوجوان طبقہ خودکشی کو ترجیح کیوں دے رہا، جسے لے کر محکمہ صحت نے ماہر نفسیات اور مینٹل ہیلتھ اسپیشلسٹ کی خدمات حاصل کی ہے تاکہ اچانک سے خودکشیوں کے اس اضافے کو روکا جاسکے۔

    بالی وڈ اسٹار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور اس پرطویل بحث ہورہی ہے۔
    بالی وڈ اسٹار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور اس پرطویل بحث ہورہی ہے۔


    ضلع رامبن جو ایک پہاڑی ضلع ہے اس میں گزشتہ 15 دنوں میں 7 خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے افراد کی عمر 18 سے 22 سال کے درمیان کی ہے، جس پر سماج کے ہر طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ نوجوان نسل کے اندر قوت برداشت اور مشکلات سے لڑنے کی صلاحیت میں کہاں کمی رہ گئی۔ وہیں موجودہ صورتحال پر سماج والدین اور ہر ذی شعور شخص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضمن میں غور و فکرکرے اور نوجوان نسل کو اس طرح کے اقدام کرنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ رامبن پولیس اس معاملے میں ایک ریسرچ کر رہی ہے تاکہ سماج میں بیداری کا ماحول بنا کر نواجوان نسل کو اس برے انجام سے روکا جا سکے۔
    خودکشی کرنا گناہ عظیم ہے خاص طور سے نوجوان نسل کی خودکشی ملک وسماج کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔ والدین کی دنیا میں جو خلا رہ جاتی ہے، اسے کائنات کے مل جانے سے بھی پر نہیں کیا جاسکتا۔ بالی وڈ اسٹار سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور اس پرطویل بحث ہورہی ہے، لیکن اس کے بعد اچانک سے نوجوان نسل کی جانب سے بھی پُرخطر قدم اٹھانا نہایت ہی تشویشناک بات ہے۔ اس سلسلے میں سماج، والدین اور حکام کو جلد اقدام کرنے ہوں گے۔ تاکہ ہم مزید جانوں کے ضائع ہونے سے روک پائے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: