اپنا ضلع منتخب کریں۔

    آج کے دور میں ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی پر ہے

    آج کے دور میں ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی پر ہے۔ آج ہم ایسے ہی ایک نویں جماعت کے طالب علم کی کہانی دکھانے جا رہے ہیں جس نے ابتدائی دنوں سے سائنس کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔

    آج کے دور میں ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی پر ہے۔ آج ہم ایسے ہی ایک نویں جماعت کے طالب علم کی کہانی دکھانے جا رہے ہیں جس نے ابتدائی دنوں سے سائنس کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔

    آج کے دور میں ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی پر ہے۔ آج ہم ایسے ہی ایک نویں جماعت کے طالب علم کی کہانی دکھانے جا رہے ہیں جس نے ابتدائی دنوں سے سائنس کو اپنا دوست بنا رکھا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    آج کے دور میں ملک کے مستقبل کا انحصار ملک کے نوجوانوں کی سائنس میں دلچسپی پر ہے۔ ٹنگمرگ کے ہرد مادم ہائی اسکول کے نویں جماعت کے طالب علم نے ابتدائی دنوں سے سائنس کو اپنا دوست بنا رکھا ہے اورنویں جماعت میں پڑھتے ہوئے اس نے اساتذہ کی مدد سے مختلف چیزوں کے ماڈل ڈیزائن بنائے یعنی ان چیزوں کی انوویشن کی۔ ٹنگمرگ کے ہرد مادم میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں زیر تعلیم نویں جماعت کے مزمل احمد جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں مزمل کے اندر کافی صلاحیتیں موجود ہیں۔

    مزمل نے کئی اہم چیزوں کے ماڈل تیار کئے ہیں اور اب مزمل چند ایک دنوں میں ڈرون بھی بنانے جارہے ہیں۔ مزمل نے قلا اتسو مقابلے میں بھی بارہمولہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ مزمل کی صلاحیتوں کو دیکھ لوگ خوب ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مزمل کو بچپن سے ہی سائنس میں دلچسپی تھی۔ تاہم گھریلو مالی حالت نے انہیں از خود کمانے کی ترغیب دی۔

    پی ایم مودی کا کانگریس پر نشانہ، 'رام کے وجود' کو نہیں ماننے والے اب راون کو لے آئے ہیں

    انگلینڈ نے ٹیسٹ میں ٹی20 کے انداز میں کی بلےبازی، پاکستان کے گیندبازوں کو جم کر کوٹا

    مزمل کے داد کشمیری کانگڑی بناتے تھے مزمل نے اپنے دادا سے یہ کام سیکھا اور آہستہ آہستہ اس کام سے بھی جڑ گئے مزمل کانگڑی بناکر انہیں فروخت کرکے حاصل شدہ رقم سے اپنی پڑھائی کا خرچہ از خود اٹھاتے ہیں اور والدین کا بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اس طرح مزمل دوسرے بچوں کے لئے بھی مشعل راہ بن ابھر رہے ہیں۔مزمل کی چاہت ان چیزوں کو بنانے کی طرف بڑھ گئی تو انہوں نے پلاسٹک کی بوتلیں، گتے اور ایک چھوٹی موٹر جیسی فضلہ چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ مختلف ماڈل تیار کئے۔ابھی یہ ڈرون کے علاؤہ کئی اختراعی منصوبے بنائے ہیں۔ ایسے بچوں کو سرکاری سطح پر بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان چپھی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لایا جاسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: