உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایک 17سالہ نوجوان اپنے گھر سے لاپتہ، لخت جگر کیلئے ماں نے کی یہ اپیل، میرے بچے کو معاف کردیں اور اسے چھوڑ دیا جائے

    فیصل کی والدہ آہ وزاری کرکے کہتی ہیں،" اگر میرے بچے نے کسی کے ساتھ کوئی غلطی کی ہے تو اسے معاف کیا جائے۔ اگر کسی نے اسے اغوا کیا اسے در گزر کرکے چھوڑ دیاجائے۔ بچے کی جدائی سے ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔

    فیصل کی والدہ آہ وزاری کرکے کہتی ہیں،" اگر میرے بچے نے کسی کے ساتھ کوئی غلطی کی ہے تو اسے معاف کیا جائے۔ اگر کسی نے اسے اغوا کیا اسے در گزر کرکے چھوڑ دیاجائے۔ بچے کی جدائی سے ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔

    فیصل کی والدہ آہ وزاری کرکے کہتی ہیں،" اگر میرے بچے نے کسی کے ساتھ کوئی غلطی کی ہے تو اسے معاف کیا جائے۔ اگر کسی نے اسے اغوا کیا اسے در گزر کرکے چھوڑ دیاجائے۔ بچے کی جدائی سے ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بیروہ کے آری پاتھن علاقے سے پیر  کو ایک سترہ سالہ نوجوان اپنے گھر سے لاپتہ ہو گیا ہے جب کہ اس کے اہل خانہ واپسی کی اپیل کر رہے ہیں۔ لاپتہ نوجوان کی شناخت فیصل احمد ڈار ولد حفیظ اللہ ڈار کے طور پر ہوئی ہے فیصل بارہویں جماعت کا طالب علم ہے، گھر والوں کے مطابق پیر کے روز دوپہر سے وہ لاپتہ ہوگیا اور اس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ف یصل کے والد نے بتایا کہ فیصل ماگام میں ٹیوشن لیتے  تھے اسی مقصد سے وہ گھر سے ٹیوشن کلاس دینے کی غرض سےماگام گئے، تاہم وہ اب تک گھر واپس نہیں لوٹے۔ فیصل کے والد نے بتایا کہ ماگام میں جس استاد کے پاس پڑھتے تھے انہوں نے کہا کہ وہ ٹیوشن سینٹر سے پڑھائی کرنے کے بعد جلدی نکل گئے۔ والد کاکہنا ہے کہ فیصل کا فون بھی تب سے بند پڑا ہے۔ فیصل کے والد حفیظ اللہ نے مزید بتایا کہ وہ زیادہ تر گھر میں اپنا وقت گزارتے تھے ان کا لڑکوں کے ساتھ ایسا کوئی دوستانہ نہیں تھا جس سے انہیں خدشہ ظاہر ہو۔ فیصل کی والدہ ہاتھ جوڑ کر اپنے لخت جگر کی بازیابی کے لیے اپیل کرر ہیں۔

    فیصل کی والدہ آہ وزاری کرکے کہتی ہیں،" اگر میرے بچے نے کسی کے ساتھ کوئی غلطی کی ہے تو اسے معاف کیا جائے۔ اگر کسی نے اسے اغوا کیا اسے در گزر کرکے چھوڑ دیاجائے۔ بچے کی جدائی سے ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ انہیں کچھ نظر نہیں آتا،جس کے پاس بھی ان کا بچہ ہے برائے کرم اسے چھوڑا جائے"اہل خانہ نے فیصل کی بازیابی کی لوگوں اور انتظامیہ سے بھی اپیل کی۔ متعلقہ پولیس نے بھی گمشدگی کی رپورٹ درج کر لی ہے اور اس کا سراغ  لگانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔

    ادھر کشمیر میں شاید وہ دن نہیں گزرتا جس دن کسی نہ کسی کے لاپتہ ہونے خبر موصول ہوتی۔ حال ہی میں کپواڑہ میں بھی ایسا ہی دلدوز واقع پیش آیا جس میں ایک معصوم بچے کا قتل اغواء کرکے ہمسایہ نے ہی کیا۔ وہی چند روز قبل بڈگام کے کھاگ میں بھی فوجی اہلکار کا اغواء کرکے قتل کیاگیا۔لوگ ایسے خطرناک معاملات کی روک تھام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ لوگوں میں کافی خوف ودہشت پھیل چکا ہے۔ کچھ لوگوں نے نیوز18اردو کوبتایا کہ اب یہاں ایسا ماحول پیدا ہورہا ہے جس سے لگتا ہے کہ یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ ایک شہری نے بتایا اب بھروسہ نہیں رہاہے کہ کون گھر سے نکلے اور واپس گھر لوٹے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: