ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ہندوستان۔پاکستان کے درمیان LoC پر امن قائم رکھنے پر اتفاق، سمجھوتے کا جموں و کشمیر میں سبھی نے کیا خیر مقد م

ہندوستان اور پاکستان (India & Pakistan) کے درمیان لائن آف کنٹرول (LoC) اور بین الا اقوامی سرحد پر جنگ بندی معاہدے (ceasefire) کی پاسداری کو یقینی بنانے کے سمجھوتے کا جموں و کشمیر میں سیاسی پارٹیوں اور عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

  • Share this:
ہندوستان۔پاکستان  کے درمیان LoC پر امن قائم رکھنے پر اتفاق، سمجھوتے کا جموں و کشمیر میں سبھی نے کیا  خیر مقد م
ہندوستان اور پاکستان (India & Pakistan) کے درمیان لائن آف کنٹرول (LoC) اور بین الا اقوامی سرحد پر جنگ بندی معاہدے (ceasefire) کی پاسداری کو یقینی بنانے کے سمجھوتے کا جموں و کشمیر میں سیاسی پارٹیوں اور عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان (India & Pakistan) کے درمیان لائن آف کنٹرول (LoC) اور بین الا اقوامی سرحد پر جنگ بندی معاہدے (ceasefire) کی پاسداری کو یقینی بنانے کے سمجھوتے کا جموں و کشمیر میں سیاسی پارٹیوں اور عام لوگوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس ، کانگریس ، بی جے پی اور پی ڈی پی سمیت سبھی پارٹیوں نے اس اقدام پر اطمبنان کا اظہار کیا ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سماجی رابطہ سائیٹ ٹویٹر کا استعمال کرتے ہوئے اسے ایک بڑا اور خوش آئیند قدم قرار دیا ہے۔ اپنے ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے لکھا ہے کہ جموں و کشمیر اور سرحد کے آر پار تشدد ، خون خرابہ روکنے کے لئے بات چیت ہی ایک واحد راستہ ہے۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سمجھوتے کو من و عن عمل میں لایا جائے۔


پارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کنٹرول لائن اور بین الا اقوامی سرحد کے علاقوں میں آباد لوگ بلا خلل اپنی معمول کی زندگی بسر کر پائیں گے۔ پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی معاہدہ سال دو ہزار تین میں ہی طے پایا تھا تاہم اس پر زیادہ عمل در آمد نہیں ہوا۔ غلام احمد میر نے کہا کہ اب جبکہ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول اور سرحد پر امن قائم کرنے کی رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کو دیگر سیاسی اور اقتصادی معاملات بھی بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔



اُدھر دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ مُثبت قدم ہے تاہم یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ پاکستان اس معاہدے کی کتنی پاسداری کرتا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار برگیڈئیر ریٹائیرڈ انیل گُپتا کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول (LoC) اور بین الا اقوامی سرحد کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے لئے یہ کسی تحفے سے کم نہیں جو پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری سے متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کیا پاکستان کی نیت صاف ہے یا پھر یہ اس کا کوئی ڈھونگ ہے۔ اُدھر کنٹرول لائن کے متصل علاقوں میں آباد لوگوں نے اسے ایک مثبت تبدیلی سے تعبیر کیا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کے علاقوں میں پاکستان کی بار بار گولہ باری سے ہمیشہ ان پر خطرے کے بادل منڈلاتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انہیں روزمرہ کے کام کاج میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ سرحدی عوام اب اس بات کے انتظار میں ہیں کہ پاکستان کے قولد و فعل میں تضاد دیکھنے کو نہ ملے ۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کو لے کر بدھ کو گفتگو ہوئی ۔ دونوں ممالک کے درمیان طے کیا گیا ہے کہ فریقین کو لائن آف کنٹرول اور دیگر سیکٹرس میں جنگ بندی پر عمل کرنا ہوگا ۔ یہ فیصلہ 24 ۔ 25 فروری کی نصف شب سے عمل میں لایا جائے گا ۔ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹرس جنرل آف ملیٹری آپریشنز ( ڈی جی ایم او) کے درمیان ہاٹ لائن کے ذریعہ کئی امور پر بات چیت ہوئی ۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے ، جب ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا تھا ۔ وزارت دفاع نے اس سلسلہ میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے ۔
وزارت دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سبھی سمجھوتوں اور ایل او سی کے ساتھ دوسرے سیکٹرس میں بھی جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں ۔ یہ 24 سے 25 فروری کی نصف شب سے نافذ العمل ہوجائے گا ۔ بات چیت کے دوران دونوں افواج نے ایل او سی کے ساتھ دوسرے سیکٹر پر بھی حالات کا جائزہ لیا ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت ہوئی ۔ جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک کے ڈی جی ایم او ایک دوسرے کے ایسے ضروری ایشوز اور تشویشات کو ماننے کیلئے ہوئے ہیں ، جو امن میں رخنہ ڈال سکتے ہیں اور تشدد بھڑکاسکتے ہیں ۔ فریقین نے آپسی مفادات اور سرحد پر امن برقرار رکھنے کے ارادے سے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ بات چیت کے دوران دونوں ممالک نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کسی بھی غلط فہمی اور اندیکھے حالات سے نمٹنے کیلئے ہاٹ لائن کا استعمال کیا جائے گا ۔
حالانکہ اس دوران ہندوستانی فوج نے یہ واضح کردیا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف مہم جاری رہے گی ۔ اس میں کوئی چھوٹ نہیں ہوگی ۔ علاوہ ازیں ہندوستانی فوج ایل او سی پر دراندازی کو روکنے کیلئے بھی آپریشن جاری رکھے گی ۔

پاکستان نے تین سال میں توڑدیا تھا سمجھوتہ
سال 2003 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی کا سمجھوتہ ہوا تھا ۔ اس کے تحت طے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج سرحد پر ایک دوسرے پر گولہ باری نہیں کریں گی ۔ یہ سمجھوتہ تقریبا تین سالوں تک ٹھیک ٹھاک چلا ، لیکن پاکستان نے 2006 میں پھر گولہ باری شروع کردی ۔ وہیں گزشتہ سال 2020 میں سرحد پر پاکستان نے جنگ بندی کی کافی زیادہ خلاف ورزی کی ۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 25, 2021 03:42 PM IST