ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر میں تشدد کے ایک دن بعد محبوبہ مفتی نے کہا : حکومت کو پاکستان سے کرنی چاہئے بات!

محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حکومت ہند کو جموں وکشمیر میں خون خرانے کو بند کرنے کے لئے پاکستان اور دیگر متعلقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ آخر جموں و کشمیر کے لوگ کب تک قربان ہوتے رہیں گے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر میں تشدد کے ایک دن بعد محبوبہ مفتی نے کہا : حکومت کو پاکستان سے کرنی چاہئے بات!
جموں و کشمیر میں تشدد کے ایک دن بعد محبوبہ مفتی نے کہا : حکومت کو پاکستان سے کرنی چاہئے بات!

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حکومت ہند کو جموں وکشمیر میں خون خرانے کو بند کرنے کے لئے پاکستان اور دیگر متعلقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ آخر جموں و کشمیر کے لوگ کب تک قربان ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے ان باتوں کا اظہار ہفتہ کے روز ضلع اننت کے لوگری پورہ عشمقام میں جمعہ کے روز باغات سری نگر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ کیا ۔


انہوں نے کہا کہ کچھ گھنٹوں کے اندر ہی اس پولیس اہلکار کو بے دردی سے مارا گیا ۔ میں سمجھتی ہوں کہ حکومت ہند کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آخر جموں وکشمیر کے لوگ کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے ۔ ہمارے پولیس جوان اور دوسرے جوان کب تک اس طرح قربان ہوتے رہیں گے۔


محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ جس کا حل ہونا ضروری ہے ۔  انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں خون خرانے کو بند کرنے کے لئے بات چیت کا عمل شروع کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو چاہئے کہ وہ جموں وکشمیر میں خون خرابہ بند کرنے کے لئے کم سے کم پاکستان یا یہاں کے متعلقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرے ۔


ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بار بار کہتی ہے کہ پاکستان یہاں تشدد بھڑکاتا ہے ، تو کم سے کم ان کے ساتھ ہی تشدد کو بند کرنے کے لئے بات چیت ہونی چاپئے۔

بتادیں کہ باغات سری نگر میں جمعہ کے روز دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے ۔ شہید اہلکاروں کی شناخت سہیل احمد اور محمد یوسف کے بطور ہوئی تھی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 20, 2021 06:20 PM IST