உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے حکم پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے والے 4 ہائبرڈ ملیٹنٹ گرفتار

     واضح ہو کہ ہائبرڈ ملیٹنٹ  (Hybrid Militant Groups) اس کو کہتے ہیں جو ایک عام شہری کی طرح رہتا ہے اور کام کاج کرتا ہے لیکن اپنے آقاؤں کے حکم پر ایک خاص وقت میں سرگرم ہوتا ہے اور دہشت گردانہ کاروائی کو انجام دیتا ہے اور واپس اپنی عام زندگی میں چلا جاتا ہے ۔

    واضح ہو کہ ہائبرڈ ملیٹنٹ (Hybrid Militant Groups) اس کو کہتے ہیں جو ایک عام شہری کی طرح رہتا ہے اور کام کاج کرتا ہے لیکن اپنے آقاؤں کے حکم پر ایک خاص وقت میں سرگرم ہوتا ہے اور دہشت گردانہ کاروائی کو انجام دیتا ہے اور واپس اپنی عام زندگی میں چلا جاتا ہے ۔

    واضح ہو کہ ہائبرڈ ملیٹنٹ (Hybrid Militant Groups) اس کو کہتے ہیں جو ایک عام شہری کی طرح رہتا ہے اور کام کاج کرتا ہے لیکن اپنے آقاؤں کے حکم پر ایک خاص وقت میں سرگرم ہوتا ہے اور دہشت گردانہ کاروائی کو انجام دیتا ہے اور واپس اپنی عام زندگی میں چلا جاتا ہے ۔

    • Share this:
    سرینگر میں پولیس نے چار ملیٹنٹوں کو گرفتار کرکے ہائبرڈ ملی ٹنٹوں کا ایک گروہ بے نقاب کرنے کا دعوٰی کیا ہے جو پولیس کے مطابق ٹارگیٹ کلنگ (Target Killing)  میں ملوث ہے ۔  واضح ہو کہ ہائبرڈ ملیٹنٹ  (Hybrid Militant Groups) اس کو کہتے ہیں جو ایک عام شہری کی طرح رہتا ہے اور کام کاج کرتا ہے لیکن اپنے آقاؤں کے حکم پر ایک خاص وقت میں سرگرم ہوتا ہے اور دہشت گردانہ کاروائی کو انجام دیتا ہے اور واپس اپنی عام زندگی میں چلا جاتا ہے ۔  اس معاملے کی تفصیلات دیتے ہوئے ڈی آئی جی سنٹرل کشمیر سُجیت کمار نے میڈیا کو بتایا کہ کہ ۲۲ دسمبر ۲۰۲۱ کو ایک پراپرٹی ڈیلر روف احمد کےقتل کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کی اور تفتیش کے دوران برزلہ علاقہ میں دو ملی ٹنٹوں کو گرفتار کیا۔

    ان کی پہچان ترال کے سہیل قادر اور پلوامہ کے سہیل مشتاق کے طور ہوئی۔ ان کے قبضے سے دو پستول ، سائی لینسر اور گولیاں بر امد کہ گئیں۔ گرفتار ملی ٹنٹوں سے پوچھ تاچھ کے دوران گرفتار شدہ کلی ٹنٹوں دو ساتھیوں کا پتہ دیا جن کو پولیس نے دھر دبوچا۔یہ دو اوور گراونڈ ورکر کے طور کا کرتے تھے۔

    سُجیت کمار نے بتایا کہ مزید پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ گرفتار چاروں افراد سرینگر میں سرگرم تھے اور یہ یہاں پر آصف مقبول ڈار اور سجاد گُل کی ایما پر کام کرتے تھے۔ آصف مقبول بمنہ سرینگر کا رہنے والا ہے لیکن اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہے اور ساجد گُل پارم پورہ سرینگر کا باشندہ ہے لیکن اس وقت پاکستان میں ہے۔

    سُجیت کمار نے بتایا کہ مزید پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ گرفتار چاروں افراد سرینگر میں سرگرم تھے اور یہ یہاں پر آصف مقبول ڈار اور سجاد گُل کی ایما پر کام کرتے تھے۔
    سُجیت کمار نے بتایا کہ مزید پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ گرفتار چاروں افراد سرینگر میں سرگرم تھے اور یہ یہاں پر آصف مقبول ڈار اور سجاد گُل کی ایما پر کام کرتے تھے۔


    ساجد اور آصف ملیبٹنٹ کاروائی کے لئے رقومات اور ہتھیار فراہم کرتے تھے اور کس کو قتل کرنا ہے یا کہاں حملہ کرنا ہے یہ بھی وہی طے کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق اس گروہ نے این آئی اے آفس اور دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر کی جانکاری بھی آصف اور سجاد کو فراہم کی ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ دفاتر بھی ملیٹنٹوں کے نشانہ پر ہیں۔ آئی جی پولیس کشمیر نے اسے ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: