உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لل دید اسپتال سرینگر میں دلدوز معاملہ، مٹھائی کے چکر میں نوزائیدہ بچے کی موت، مچا ہنگامہ

    Youtube Video

    ان کا کہنا ہے کہ جب وہ بچے کو لیکر نیکو پہنچے تب تک بچے کی وفات ہوچکی تھی۔ اس معاملہ پر اسپتال میں ہنگامہ مچ گیا اور نعرہ بازی شروع ہوگئی۔ میڈیکل سپر اٹنڈنٹ ڈاکٹر مظفر نے نیوز18 کو بتایا کہ اس معاملہ میں دو سیکورٹی سے وابستہ خواتین کو بے دخل کردیا گیا ہے۔

    • Share this:
    لل دید اسپتال کے وارڈ میں محمد امین اپنی اہلیہ شفیقہ سے آنسو اور سسکیاں چھپانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے لیکن شفیقہ بار بار سوال کررہی ہے کہ اس کا بچہ کہاں ہے ۔ اس پر وہ بہانے بناکر باہر آتا اور ہچکیاں لے لے کر وارڈ کے باہر روتا رہتا ہے۔ اس کے سوا اس کے پاس کوئی جواب نہیں کیونکہ اس کے بچے کا انتقال پیدا ہونے کے چند وقت کے بعد ہی ہوا۔ محمد امین کا کہنا ہے کہ اس کے بچے کا قتل ہوا ہے ۔ وہ بھی سکiورٹی گارڈز کے ذریعے۔ کپواڑہ کے چی پورہ لولاب کے محمد امین اپنی اہلیہ کو لیکر کل کپواڑہ سے لل دید اسپتال آئے ۔ انھیں یہاں کے لئے باقاعدہ ریفر کیا گیا ۔ محمد امین کے مطابق یہاں رات بارہ بجے اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا۔

    بچے کو صحت کے کچھ مسائل در پیش تھے اور ڈاکٹر نے ان سے کہا اس بچے کو فوراً اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ یعنی نیکو لیکر جاؤ۔ محمد امین کا کہنا ہے کہ وہ بچے کو لیکر جلدی نکلے لیکن دروازے پر انھیں سیکورٹی پر مامور دو خواتین نے روکا۔ انھوں نے مٹھائی کا تقاضا کیا۔ محمد امین کا کہنا ہے کہ انھوں نے 800 روپے دیئے لیکن یہ دو خواتین دو سو روپے اور دینے کا تقاضا کرنے لگیں اور اس کی منت سماجت کے باوجود انھیں دس منٹ تک روکے رکھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب وہ بچے کو لیکر نیکو پہنچے تب تک بچے کی وفات ہوچکی تھی۔ اس معاملہ پر اسپتال میں ہنگامہ مچ گیا اور نعرہ بازی شروع ہوگئی۔ میڈیکل سپر اٹنڈنٹ ڈاکٹر مظفر نے نیوز18 کو بتایا کہ اس معاملہ میں دو سیکورٹی سے وابستہ خواتین کو بے دخل کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جانچ کمیٹی بنادی گئی اور پہلے ایکشن کے طور ان خواتین کو رشوت لینے اور طلب کرنے میں ملوث پایا گیا لہذا انھیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ بلیک لسٹ بھی کیا گیا ہے۔

    محمد امین سے جب اس نمائندہ نے بات کی تو اسکا پورا چہرہ آنسو سے تر تھا۔ وہ بار بار صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی بیمار اہلیہ کو کیا جواب دے گا جو بار بار بچے کے بارے میں پوچھ رہی ہے۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ کیا غریب بچے اتنے سستے ہوگئے ہیں کہ صرف دو سو روپے کے لئے وہ مارے جائیں۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: